خضدار (بلوچستان نیوز) خضدار کوشک سے تعلق رکھنے والی بیوہ خاتون اپنی بوڑھی والدہ اور معصوم بچوں کے ہمراہ انصاف کی تلاش میں خضدار پریس کلب پہنچ گئیں، جہاں انہوں نے ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران اپنے ساتھ پیش آنے والے مبینہ ظلم و زیادتی کی دردناک داستان میڈیا کے سامنے بیان کی۔ متاثرہ خاتون نے آبدیدہ ہوتے ہوئے بتایا کہ حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے باعث ان کا گھر مکمل طور پر منہدم ہوگیا تھا۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کو ملنے والی امدادی رقم سے وہ اپنے یتیم بچوں کے سہارے دوبارہ گھر تعمیر کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔ ان کے مطابق وہ چند مزدوروں کے ساتھ تعمیراتی کام میں مصروف تھیں کہ اچانک تقریباً پچیس افراد پر مشتمل ایک گروہ نے ان پر دھاوا بول دیا۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ حملہ آوروں نے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے کمسن بچوں اور بچیوں کو بھی بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی معصوم بیٹیوں کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا، مارا پیٹا گیا اور ان کے کپڑے تک پھاڑ دیے گئے، جس سے وہ شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہوگئی ہیں۔ متاثرہ خاتون نے مزید الزام لگایا کہ مذکورہ افراد کو بااثر شخصیت عزیز عمرانی کی مبینہ پشت پناہی حاصل ہے، جس کی وجہ سے انہیں انصاف نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد جب وہ قانونی کارروائی کے لیے پولیس تھانے پہنچیں تو ان کی درخواست سننے کے بجائے انہیں مبینہ طور پر دھکے دے کر تھانے سے نکال دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے الٹا ان کے خلاف استعمال ہورہی ہے، جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران تشدد کا نشانہ بننے والی ایک طالبہ بیٹی نے اپنے جسم پر موجود زخم میڈیا نمائندوں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ ”میری حالت سب کے سامنے ہے، آخر ہمیں انصاف کب ملے گا؟“ انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک طالبہ ہے اور اس کے امتحانات جاری ہیں، مگر شدید صدمے اور جسمانی تکالیف کے باعث وہ امتحانات میں شرکت سے محروم ہورہی ہے۔ متاثرہ خاندان کی دوسری بیٹی نے مبینہ حملہ آوروں کے نام لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عبد الرحیم شیخ، وحید شیخ، حامد علی، علی احمد گزگی، راشد علی، نعمان، منظور احمد گزگی، وسیم منظور، زیب گزگی، سلمان گزگی اور نثار سمیت دیگر افراد نے ان کے گھر پر حملہ کیا، تشدد کیا اور بعد ازاں انہی افراد نے ان کیخلاف ایک مبینہ جھوٹی ایف آئی آر بھی درج کرا دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان پر یہ بے بنیاد الزام بھی لگایا گیا ہے کہ حملہ آوروں کی موٹر سائیکل ان کے قبضے میں ہے، حالانکہ اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔ متاثرہ بیوہ خاتون نے حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ، پولیس کے اعلیٰ حکام اور انسانی حقوق کے اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف درج مبینہ جھوٹی ایف آئی آر کو ختم کیا جائے، واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث افراد کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ انہیں اور ان کے بچوں کو انصاف اور تحفظ فراہم ہوسکے۔
خضدار پریس کلب میں بیوہ اور یتیم بچوں کی فریاد، مبینہ ظلم و زیادتی کیخلاف انصاف فراہم کرنیکا مطالبہ
