کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پشتون قومی سیاسی تحریک کے نڈر، بااصول، جمہوریت پسند اور عوام دوست رہنما، ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت کی پانچویں برسی 21 جون بروز اتوار کو ضلع قلعہ سیف اللہ کے فٹبال اسٹیڈیم میں انتہائی عقیدت، احترام، قومی جذبے اور بھرپور عوامی شرکت کے ساتھ منائی جائے گی۔ اس موقع پر ایک عظیم الشان، تاریخی جلسہ عام منعقد ہوگا جس میں جنوبی پشتونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے ہزاروں کارکن، ہمدرد، سیاسی و سماجی شخصیات، نوجوان، خواتین اور عوام کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ جلسہ عام سے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین و رکنِ قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ، شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی، سینئر ڈپٹی چیئرمین و سابق سینیٹر رضا محمد رضا، مرکزی سیکرٹری جنرل خورشید کاکاجی سمیت پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت خطاب کرے گی۔ مقررین ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی سیاسی جدوجہد، قومی خدمات، جمہوری کردار، عوامی وابستگی، اصولی سیاست اور پشتون قومی تحریک کے لیے ان کی بے مثال قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع، تحصیلوں اور یونٹوں میں برسی کے حوالے سے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ مختلف علاقوں سے قافلے، جلوس اور کارکنوں کے وفود قلعہ سیف اللہ کی جانب روانہ ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد اپنے محبوب رہبر، قومی قائد اور ملی شہید عثمان خان کاکڑ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جلسہ گاہ کا رخ کر رہے ہیں۔ قلعہ سیف اللہ میں جلسہ عام کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور استقبالیہ کمیٹیاں مختلف مقامات پر آنے والے قافلوں کا استقبال کر رہی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ نے اپنی پوری سیاسی زندگی پشتون قوم کے قومی حقوق، جمہوریت، آئین کی بالادستی، پارلیمانی نظام، انسانی حقوق، صوبائی خودمختاری اور محکوم اقوام کے حقوق کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے ہر دور میں حق گوئی، اصول پسندی اور عوامی مفادات کی سیاست کو فروغ دیا اور کبھی بھی جبر، ناانصافی اور غیر جمہوری اقدامات کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی یاد صرف ایک سیاسی رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ایک قومی فکر، جدوجہد اور مزاحمت کی علامت کے طور پر منائی جا رہی ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ آج ملک بالخصوص پشتونخوا وطن کو جن سنگین سیاسی، معاشی، سماجی اور قومی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان حالات میں ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی برسی کا یہ جلسہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ پشتون قوم بدامنی، بے روزگاری، معاشی بدحالی، سیاسی بے اختیاری اور وسائل پر حق ملکیت کے مسائل سے دوچار ہے، جبکہ ملک کی دیگر محکوم اقوام بھی مختلف محرومیوں اور مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پشتونخوا وطن اور بلوچستان کے قدرتی وسائل، معدنی ذخائر اور دیگر قومی اثاثوں پر مقامی عوام کے آئینی و جمہوری حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے مختلف منصوبے تشکیل دیے جا رہے ہیں، جس کے باعث عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ پارٹی سمجھتی ہے کہ وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی عوام کی شمولیت اور مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں بڑھتی ہوئی بدامنی، غربت، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی، معاشی بحران اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں نے عوامی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایسے نازک اور حساس حالات میں قلعہ سیف اللہ کا یہ عظیم الشان جلسہ عوامی امنگوں، قومی حقوق، جمہوری جدوجہد، سیاسی شعور اور آئندہ سیاسی لائحہ عمل کے تعین کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ پارٹی قیادت اس موقع پر موجودہ سیاسی صورتحال، پشتون قومی تحریک، قومی حقوق، وسائل پر اختیار، جمہوریت، آئینی حکمرانی، امن، انسانی حقوق اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے اپنا واضح موقف اور سیاسی بیانیہ پیش کرے گی۔ جلسے میں ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی جدوجہد کے مختلف پہلوﺅں کو بھی اجاگر کیا جائے گا اور ان کے سیاسی فلسفے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا۔ مرکزی سیکرٹریٹ نے تمام عوام، سیاسی کارکنوں، نوجوانوں، خواتین، دانشوروں، وکلائ، اساتذہ، طلبہ اور ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے چاہنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھرپور انداز میں جلسہ عام میں شرکت کرکے ملی شہید کی جدوجہد، قربانیوں اور قومی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کریں۔ ساتھ ہی پارٹی کارکنوں اور ذمہ داران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ منظم انداز میں قافلوں اور جلوسوں کی صورت میں قلعہ سیف اللہ پہنچیں، نظم و ضبط کا مکمل خیال رکھیں اور اس تاریخی جلسے کو ہر لحاظ سے کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے مشن، فکر اور فلسفے کو مزید مو¿ثر انداز میں آگے بڑھایا جاسکے۔
پشتون قوم کو بدحالی سے دوچار کردیا گیا، بلوچستان کے قدرتی وسائل و معدنی ذخائر پر دوسروں کا تسلط ہے، پشتونخوا نیپ
