بلوچ یکجہتی کمیٹی پاکستان توڑنے کیلئے نوجوانوں کو گمراہ کررہی ہے، بی ایل اے سے گٹھ جوڑ بے نقاب ہوچکا، وزیراعلیٰ بلوچستان

راولپنڈی (پ ر) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بی ایل اے اور بلوچ یکجہتی کونسل کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوچکا، یہی وجہ ہے کہ بی وائی سی کالعدم تنظیموں کی کٹھ پتلی ہے، جو نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہوئے پاکستان کو توڑنے کیلئے بلوچستان میں تشدد، سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے پروپیگنڈہ کررہے ہیں، بلوچستان میں جاری شورش پاکستان کے خلاف ایک منظم انٹیلی جنس وار ہے جس میں افغانستان اور بھارت کی جانب سے سہولت کاری فراہم کی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے زیراہتمام منعقدہ ورکشاپ میں ملک بھر کے دو سو سے زائد جامعات کے وائس چانسلرز، رجسٹرارز، ڈینز اور سینئر پروفیسرز کے ساتھ خصوصی نشست کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی بی ایل اے اور بلوچ یکجہتی کونسل بی وائی سی کے گٹھ جوڑ، احساس محرومی بیانیے اور حکومتی ترقیاتی و اصلاحاتی اقدامات کے حوالے سے منعقدہ پروگرام کے شرکاءکو تفصیلات سے آگاہی فراہم کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے پروپیگنڈا اور حقائق میں زمین آسمان کا فرق ہے اور احساس محرومی کا بیانیہ محض ایک مخصوص انتہاپسند ایجنڈے کو فروغ دینے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بی ایل اے اور بی وائی سی کا گٹھ جوڑ آج دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے، بی وائی سی کالعدم تنظیموں کی کٹھ پتلی ہے اور اس حوالے سے ماہ رنگ بلوچ اور کریمہ بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توڑنے کیلئے بلوچستان میں تشدد، سوشل میڈیا اور پروپیگنڈے کا سہارا لیا جا رہا ہے، بلوچستان میں جاری شورش پاکستان کے خلاف ایک منظم انٹیلی جنس وار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور اس نوعیت کی دیگر تنظیموں کو افغانستان اور بھارت کی جانب سے سہولت کاری فراہم کی جا رہی ہے جس کی بدولت یہ عناصر افغان اور بھارتی پاسپورٹس پر آزادانہ نقل و حرکت کرتے ہیں اور یہ تمام سہولت کاری بھارتی و افغان پشت پناہی پر مبنی انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے بغیر اور پاکستان بلوچستان کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کو ایسے منفی پروپیگنڈے سے بچانا ہے تاکہ ان کے مستقبل کو تابناک بنایا جاسکے۔