کوئٹہ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت پی پی ایل (پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ) انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں باہمی معاہدوں پر عملدرآمد اور عوامی فلاح سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے معاہدے کے باوجود سست پیش رفت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری عملی اقدامات کی ہدایت کی۔اجلاس میں اسکالرشپس، سوئی ٹاؤن کی طوطا کالونی، عدل خان اور پھونگ کالونی میں گیس کی عدم فراہمی، اور مقامی افراد کی ملازمتوں میں سست روی جیسے معاملات زیرِ بحث آئے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سوئی سے گیس نکلنے کے باوجود مقامی آبادی کا محروم رہنا افسوسناک ہے اور آج بھی خواتین کا لکڑیوں پر روٹی پکانے پر مجبور ہونا قابلِ تشویش ہے۔میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ پی پی ایل کی جانب سے وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونا تشویشناک ہے جبکہ اسکالرشپس، سن کوٹہ اور مقامی بھرتیوں میں تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے ویل چوکیدار کی آسامیوں پر مقامی افراد کی بھرتی میں حیل و حجت کو بھی مسترد کرتے ہوئے ہدایت دی کہ سن کوٹہ کے تحت خالی آسامیوں پر فوری طور پر مقامی بھرتیاں کی جائیں۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جب تک موجودہ معاہدوں پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوگا نئے معاہدے نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کا مفاد سب سے مقدم ہے اور وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔ مزید کہا کہ مقررہ ٹائم لائن میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں دیگر آپشنز پر غور کیا جائے گا۔اجلاس میں پی پی ایل حکام نے بتایا کہ گیس فراہمی سے متعلق 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور یقین دہانی کرائی کہ تمام زیر التواء امور کو جلد نمٹا کر عوامی مسائل کا ازالہ کیا جائے گا۔
عوام کا مفاد مقدم، وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان
