خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتِ حال پر اعلیٰ سطحی اجلاس، پشاور میں پی ایس ایل میچز کے انعقاد اور متاثرہ اضلاع میں نیا گورننس ماڈل نافذ کرنے کا فیصلہ

پشاور(ویب ڈیسک)صوبہ خیبر پختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے کور ہیڈکوارٹر پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر داخلہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، قومی سلامتی کے مشیر، کور کمانڈر پشاور سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے شہریوں اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس میں رواں سال پشاور میں پاکستان سپر لیگ (PSL) کے میچز کے انعقاد کا فیصلہ بھی کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم و نسق کو فوری طور پر صوبائی پولیس اور دیگر صوبائی اداروں کی نگرانی میں ایک ماڈل کے طور پر نافذ کیا جائے گا، جسے بعد ازاں خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع بالخصوص خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار لاگو کیا جائے گا۔متاثرہ اضلاع میں شروع کیے جانے والے تمام ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور کسی بھی قسم کی عسکری کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی سربراہی میں ایک خصوصی ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جو ماہانہ بنیادوں پر جائزہ اجلاس منعقد کرے گی۔اس خصوصی ذیلی کمیٹی میں منتخب عوامی نمائندگان، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، صوبائی حکام اور وفاقی اداروں کے نمائندگان شامل ہوں گے۔ کمیٹی ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے لیے متبادل روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عارضی طور پر بے گھر افراد کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان مؤثر رابطوں کے ذریعے دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے مکمل ہم آہنگی اور یکساں مؤقف اپنایا جائے گا۔ نوجوانوں میں شدت پسندانہ سوچ کی روک تھام اور مثبت رجحانات کے فروغ کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔اجلاس میں غیر قانونی سم کارڈز، دھماکہ خیز مواد، بھتہ خوری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھنے اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی مرحلہ وار پروفائلنگ پر خصوصی توجہ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔