تعداد میں کالجزاور یونیورسٹیوں کے طلبہ سمیت زائرین کی بڑی تعدادخصوصی ٹرین کے ذریعے حضرت لعل شہباز قلندر کے عرس میں شرکت کیلئے جانے سے محروم ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق ماتمی دستہ صدائے کربلا پنجاب کے سالار حسن شاہ نے حضرت سخی لعل شہبازقلندر کے عرس پر جانے کیلئے ممبر قو می اسمبلی طاہرہ اورنگ زیب کی وساطت سے ریلوے حکام سے چار کوچز کی بکنگ مانگی تھی اس حوالے سے منسٹری کے ای آفس کے ذریعے سے ریلوے حکام کو درخواست موصول ہوئی تھی اور عمر ریاض نے یہی درخواست چیف ایگزیکٹو ، جنرل منیجر ریلوے آپریشن عامر بلوچ کو بھی وٹس ایپ کی تھی یہی درخواست ڈی جی آپریشن مسعود جان نے سی اوپی ایس کاشف کو بھی واٹس ایپ کی تھی ۔ماتمی دستہ صدائے کربلا پنجاب کے سالار حسن شاہ 2 فروری کو جی ایم ریلوے کے آفس حاضر ہوئے تو وہاں سے ایک آدمی انہیں لیکر سی او پی ایس کے آفس چلاگیا مگر وہ سیٹ پر موجود نہیں تھے ، پھر میڈم بشریٰ رحمان کے پاس گئے تو ان سے ملاقات ہوئی تو حسن شاہ نے گزارش کی کہ 4 فروری کی رات ساڑھے بارہ بجے ان کے ماتمی حضرات راولپنڈی سے لاہور کیلئے روانہ ہوں گے جن کا تعلق وزیرریلوے حنیف عباسی کے حلقے سے ہے ،میڈم بشریٰ رحمان نے انہیں بتایاکہ ابھی ہمیں پتہ نہیں سیہون کیلئے کتنی ٹرینیں چلنی ہیں پھر 3 فروری کی شام 6 بجے کے قریب حسن شاہ کو لسٹ موصول ہوئی جس میں ان کی چار کے بجائے صرف ایک کوچ کی بکنگ تھی اور وہ بھی چار فروری کی رات نو بجے والی ٹرین میں تھی جبکہ ان کی بکنگ کی درخواست پانچ فروری 16 شعبان کی تھی ۔ اس پر حسن شاہ نے ریلوے حکام سے بات کی لیکن 16 شعبان پانچ فروری کی تاریخ میں چار کوچز کی بکنگ ممکن نہیں ہو سکی ،جس کے بعد ماتمی دستہ صدائے کربلا پنجاب کے سالاراپنے زائرین کا قافلہ لیکر بسوں کے ذریعے سہون شریف روانہ ہوگئے۔ جبکہ ریلوے ہیڈ کواٹر کے آفیسرز نے کئی افراد کو 16 شعبان پانچ فروری کو سہون جانے والی خصوصی ٹرین میں سیٹیں اور کوچز کی بکنگ دی۔ حسن شاہ کا موقف ہے کہ لسٹ تیار کرنے والے ریلوے آفیسر نے دانستہ طور پر ایسا کیاہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں کلالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ سمیت زائرین کی بڑی تعدادخصوصی ٹرین کے ذریعے حضرت سخی لعل شہباز قلندر کے عرس میں شرکت کیلئے جانے سے محروم رہی ،ماتمی دستہ صدائے کربلا پنجاب کے سالار حسن شاہ نے وزیر ریلوے حنیف عباسی اور چیف ایگزیکٹو ، جنرل منیجر ریلوے آپریشن عامر بلوچ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری انکوائری کراوکے ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے۔
