چین کے اسپیس اسٹیشن مشن کے لیے پاکستانی ہیومن اسپیس فلائٹ پروگرام کے دو امیدوار شارٹ لسٹآئی ایس پی آر کے مطابق چین کے آسٹروناٹس سینٹر (ACC) نے پاکستان کے ہیومن اسپیس فلائٹ پروگرام کے لیے دو امیدوار شارٹ لسٹ کر لیے ہیں۔فروری 2025 میں پاکستان کے اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) اور چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی (CMSA) کے درمیان تعاون کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دو پاکستانی امیدوار چین میں تربیت حاصل کریں گے، جن میں سے ایک بیجنگ کے زیرِ انتظام تیانگونگ اسپیس اسٹیشن کے مشن کا حصہ بنے گا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سپارکو نے پاکستان کے ہیومن اسپیس فلائٹ پروگرام میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے اور خلا بازوں کے انتخاب کے ثانوی مرحلے کو کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔بیان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں پاکستان میں اسکریننگ کے بعد امیدواروں کو چین کے آسٹروناٹس سینٹر میں عالمی انسانی خلائی پرواز کے معیار کے مطابق مکمل طبی، نفسیاتی اور صلاحیتی جانچ کے مراحل سے گزارا گیا، جس کے بعد ان دو امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔دوطرفہ معاہدے کے تحت شارٹ لسٹ ہونے والے دونوں امیدوار چین کے آسٹروناٹس سینٹر میں چھ ماہ کی جدید خلا باز تربیت حاصل کریں گے۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد ایک امیدوار کو اکتوبر یا نومبر 2026 میں تیانگونگ اسپیس اسٹیشن پر جانے والے خلائی مشن کے لیے منتخب کیا جائے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ تعاون فروری 2025 میں طے پانے والے "آسٹروناٹ کوآپریشن معاہدے” کے تحت ممکن ہوا، جو وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت، وژن اور بھرپور حمایت کا نتیجہ ہے، جس نے پاکستان کو انسانی خلائی سفر میں شمولیت کا موقع فراہم کیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ تاریخی پیش رفت عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کی مضبوط حمایت کی عکاسی کرتی ہے، جس نے پاکستان کو اپنے خلا باز پروگرام میں پہلا غیر ملکی شراکت دار منتخب کیا۔فروری 2025 میں معاہدے پر دستخط کی تقریب کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ اسلام آباد، بیجنگ کے تعاون سے چین کے اسپیس اسٹیشن پر اپنا پہلا انسانی خلائی مشن بھیجے گا۔بعد ازاں چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی نے تصدیق کی کہ دو پاکستانی خلا بازوں کو چین میں تربیت دی جائے گی، جن میں سے ایک مستقبل کے تیانگونگ مشن میں بطور پے لوڈ اسپیشلسٹ شامل ہوگا۔سی ایم ایس اے کے ترجمان لن شی چیانگ کے مطابق منتخب ہونے والا خلا باز پاکستان کی جانب سے سائنسی تجربات انجام دے گا اور اسپیس اسٹیشن پر معمول کی ذمہ داریاں بھی سرانجام دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ انتخاب کا عمل وہی تین مراحل پر مشتمل ہوگا جو چینی خلا بازوں کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ 2011 سے چین کو بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن میں شمولیت سے روک دیا گیا تھا، جب امریکا نے ناسا کو چینی خلائی اداروں کے ساتھ تعاون سے منع کر دیا۔ اس کے بعد چین نے اپنے بڑھتے ہوئے خلائی پروگرام میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیا۔
