محمود خان اچکزئی کی سیاست اقتدار کے ایوانوں میں موجود قوتوں کی مرہون منت نہیں، پشتونخوا میپ

محمود خان اچکزئی

ماخذ: آئی این پی

کوئٹہ (آئی این پی) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے بیرسٹر سیف کے ایک ٹی وی انٹرویو میں محمود خان اچکزئی کی قومی اسمبلی کی نشست کو نواز شریف کی سفارش کا نتیجہ قرار دینے کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی حقائق کو مسخ کرنے، اصولی سیاست کو متنازع بنانے اور جمہوری جدوجہد کو بدنام کرکے مائنس عمران خان اور پی ٹی آئی کو توڑنے کے راستے میں کھڑے آخری رکاوٹ کو ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔پارٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی سیاست کسی فرد، جماعت یا اقتدار کے ایوانوں میں موجود قوتوں کی مرہون منت نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی، پارلیمان کی خودمختاری، جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی کے لیے طویل سیاسی جدوجہد کا تسلسل ہے۔ ان کی پارلیمانی حیثیت کو کسی دوسرے سیاسی رہنما کی سفارش سے منسوب کرنا نہ صرف ان کی سیاسی جدوجہد کی نفی ہے بلکہ جمہوری اصولوں اور عوامی مینڈیٹ کی اہمیت کو بھی نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔بیان میں کہا گیا کہ فروری 2024 کے انتخابات کے بعد جب ملک میں قائم ہائبرڈ نظام کو اپنی گرفت مضبوط کرنے میں مشکلات درپیش تھیں، اس وقت اس قسم کے عناصر نے تحریک انصاف کو پارلیمانی کردار، مذاکرات اور مفاہمت کے نام پر ایسی حکمت عملی کی طرف دھکیلا گیا جس نے رجیم کو اپنے پنجے گاڑ نے کا موقع دیا اور وقت ضائع کرکے عوامی احتجاجی قوت کو کمزور کیا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے اعلان کردہ احتجاجی کالز سے بار بار دستبرداری، بالخصوص 22 اگست 2024 کو سنگجانی/ترنول اسلام آباد کے جلسے کی منسوخی اور 8 فروری 2026 کے احتجاج، شٹر ڈا¶ن اور پہیہ جام کی کال پر م¶ثر عمل درآمد نہ ہونے سے کارکنوں کے حوصلے اور تحریک کی سیاسی قوت کو نقصان پہنچا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ تحریک انصاف کے اندر بیرسٹر سیف جیسے کئے عناصر کے کردار پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں جو عمران خان کو طریقے سے مائنس یا ان کے سیاسی حیثیت محدود کرنے، انہیں سیاسی طور پر الگ تھلگ کرنے اور پارٹی کو توڑ کر موجودہ نظام کے ساتھ سمجھوتے پر آمادہ کرنے کی حکمت عملی کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے راستے میں کھڑے پہلے عمران خان کی بہنوں کو نشانہ بنانے اور ان کی گرفتاریوں کے بعد آخری رکاوٹ محمود خان اچکزئی کی اصولی سیاست کو متنازع بنانے کی کوششوں نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ ایسے حالات میں بیرسٹر سیف کی جانب سے اچکزئی کی نشست کو نواز شریف کی سفارش سے جوڑنا محض ایک غیر ذمہ دارانہ سیاسی بیان نہیں بلکہ حقیقی اصولی اپوزیشن کے کردار کو مشکوک بنانے کی کوشش بھی ہے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ اگر محمود خان اچکزئی نے اقتدار، عہدوں یا ذاتی مفادات کو اپنی سیاست کا محور بنانا ہوتا تو وہ فروری 2024 کے انتخابات سے قبل نواز شریف کی جماعت جانب سے ان کے معتمد خاص کے ذریعے پیشکش کو قبول کر سکتے تھے، جن میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں اور حکومت میں مناسب حصے کی پیشکش شامل تھی۔ لیکن انہوں نے اصولوں کی بنیاد پر ایسی مفاہمت قبول کرنے اور ہائبرڈ نظام کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ اس اصولی م¶قف کی سیاسی قیمت بھی ادا کرنا پڑی اور پارٹی کو اپنی متعدد جیتی ہوئی نشستوں سے محروم ہونا پڑا۔ بیان کے مطابق محمود خان اچکزئی کی موجودہ قومی اسمبلی کی نشست اس حلقے کے ایک دیانت دار ریٹرننگ افسر کے جرات مندانہ کردار کے باعث محفوظ رہی، جس نے مبینہ دباﺅ کے باوجود انتخابی نتائج تبدیل کرنے سے انکار کیا۔ یہ حقیقت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں جمہوری سیاست کا اصل امتحان اقتدار کے مراکز کی سرپرستی حاصل کرنا نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ کا تحفظ اور دباﺅ کے سامنے اصولوں پر ثابت قدم رہنا ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی سیاسی جدوجہد کو کسی کی سفارش یا سیاسی عنایت کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے ان کے اصولی موقف، جمہوری کردار اور آئینی بالادستی کے لیے جدوجہد کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔ پاکستان کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالنے کا راستہ الزام تراشی، شخصیات کو متنازع بنانے اور سیاسی جماعتوں کو اندر سے کمزور کرنے میں نہیں، بلکہ عوامی مینڈیٹ کے احترام، آزادانہ انتخابات، پارلیمان کی بالادستی اور حقیقی جمہوری نظام کی بحالی میں ہے۔