اصغر خان اچکزئی کی جھوٹے اور من گھڑت مقدمے میں گرفتاری قانونی تقاضوں کے منافی ہے، اے این پی

اصغر خان اچکزئی

ماخذ: یو این اے

کوئٹہ(یو این اے)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر اچکزئی کو چمن عدالت میں ضمانت منسوخی پر گرفتار کرلیاگیا اصغر خان اچکزئی کے وکلا کے مطابق جس کیس میں اصغر خان آچکزئی کو گرفتار کیا گیا ہے، اس میں ملزم نے نہ صرف عدالت میں بیانِ حلفی جمع کرایا ہے بلکہ خود بھی بیان دیا ہے کہ ان کا اصغر خان اچکزئی سے بھائیوں جیسا تعلق ہے اور اصغر خان اچکزئی کا اس کیس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ تاہم آج عدالت نے ضمانت خارج کر دی جس پر پولیس نے اصغر خان اچکزئی کو گرفتار کرلیا۔ علاوہ ازیں عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی ترجمان ولی داد میانی نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کی ضمانت منسوخ کر کے انہیں ایک جھوٹے اور من گھڑت مقدمے میں گرفتار کرنا قابل مذمت ہے، جبکہ اس مقدمے کا مدعی خود اصغر خان اچکزئی کو بے گناہ قرار دے چکا ہے، جو قانون، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ ایف آئی آر کے مدعی نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر بیان دیا اور حلفیہ بیان بھی جمع کرایا کہ ایف آئی آر میں اصغر خان اچکزئی کا نام شامل کرنے سے ان کا یا ان کے خاندان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے باوجود ضمانت منسوخ کر کے گرفتاری عمل میں لانا کئی سنجیدہ قانونی اور آئینی سوالات کو جنم دیتا ہے، جس کی عوامی نیشنل پارٹی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ولی داد میانی نے کہا کہ اصغر خان اچکزئی محض عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ہی نہیں بلکہ ایک مقبول سیاسی رہنما اور پشتون، بلوچ سمیت تمام محکوم اقوام کی توانا آواز ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ عوام کے سیاسی، جمہوری اور قومی حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ پشتون علاقوں میں قبائلی تنازعات کے حل، قیامِ امن اور مختلف فریقین کے درمیان مفاہمت کے لیے ان کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف حربوں اور سازشوں کے ذریعے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت اور محکوم اقوام کی آواز کو دبانے کی کوششیں کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں فخر افغان باچا خان، رہبر تحریک خان عبدالولی خان اور پارٹی کے سینکڑوں رہنماﺅں کو بھی سیاسی جدوجہد کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، لیکن ان تمام تر مشکلات کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی اپنے اصولی مقف سے پیچھے نہیں ہٹی۔ صوبائی ترجمان نے واضح کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی اس معاملے میں تمام قانونی اور آئینی راستے اختیار کرے گی اور عدالتوں میں بھرپور انداز میں اپنا موقف پیش کرے گی۔ کسی بھی سیاسی رہنما کے خلاف قانون کے غیر منصفانہ استعمال سے جمہوری جدوجہد کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ آخر میں ولی داد میانی نے پارٹی کے تمام کارکنوں اور ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ موجودہ صورتحال میں پرامن رہیں، نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور اپنی جدوجہد کو آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے دائرے میں جاری رکھیں۔