اشاعتی ڈیسک: مانیٹرنگ ڈیسک
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ امیگریشن اور برطانوی سرزمین سے بے دخلی کے معاملات پر اختلافات کے باعث ایک مخصوص ملک کے شہریوں کو تمام اقسام کے ویزوں کا اجرا مکمل طور پر اور اجتماعی طور پر بند کر دے گا اور انہیں برطانوی سرزمین میں داخل ہونے سے روک دے گا۔ برطانوی اخبار ”ڈیلی ایکسپریس“ کی شائع کردہ تفصیلات کے مطابق، جن کا جائزہ ”العربیہ ڈاٹ نیٹ“ نے لیا ہے، وزیر داخلہ شبانہ محمود نے دھمکی دی ہے کہ اگر اریٹیریا کی حکومت نے ان شہریوں کو واپس لینے پر رضامندی ظاہر نہ کی جنہیں برطانیہ میں قیام کا حق حاصل نہیں، تو اریٹیریا کے شہریوں کے برطانیہ میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔ یہ انتباہ غیر قانونی ہجرت کے مسئلے سے نمٹنے اور ملک سے بے دخل کیے جانے والے افراد کی تعداد بڑھانے کے لیے برطانوی حکومت کی کوششوں کا حصہ ہے۔ وزیر داخلہ نے اریٹیریا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کی کوششوں میں تعاون سے انکار کر رہا ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں، نیز ایسے غیر ملکی مجرموں کو بھی ان کے وطن واپس بھیجنے میں تعاون نہیں کر رہا۔ اخبار ”ڈیلی ایکسپریس“ کے مطابق جمعرات 15 اکتوبر 2026 سے اریٹیریا کے سفارت کاروں کو لندن سے باہر نقل و حرکت کے دائرے سے متعلق نئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ اہم شخصیات کے لیے مختص فوری ویزا خدمات بھی ختم کر دی جائیں گی، جبکہ اریٹیریا کے سفارت کاروں کو لندن سے 60 کلو میٹر سے زیادہ فاصلے پر سفر کرنے کے لیے پیشگی اجازت حاصل کرنا ہو گی۔ برطانوی وزارت داخلہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ اقدام اریٹیریا میں برطانوی حکام پر پہلے سے عائد اسی نوعیت کی پابندیوں کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔
