حرف بے باک
طارق مری
انسان ایک دوسرے کو زبان، رنگ، نسل، مذہب، دولت اور سرحدوں میں تقسیم کرتے شاید یہ بھول گئے ہیں کہ سب سے پہلے وہ انسان ہیں۔
ہم نے دنیا کو ترقی دے دی مگر انسان کو تنہا کر دیا۔ ہمارے پاس رابطے کے ہزاروں ذرائع ہیں مگر ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے وقت نہیں۔ ہمارے پاس بلند عمارتیں ہیں مگر دلوں کے درمیان فاصلے پہلے سے زیادہ وسعت پا گئے ہیں۔ہم نے چاند تک پہنچنے کی کوشش کی مگر اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے انسان کے دکھ تک نہیں پہنچ سکے۔
آج دنیا میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں ہوتیں۔کچھ جنگیں انسان کے دل کے اندر جاری ہیں۔ کوئی غربت سے لڑ رہا ہے،کوئی تنہائی سے، کوئی ناانصافی سے اور کوئی اس احساس سے کہ اس کی زندگی کی کوئی قدر نہیں۔
کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر وائرل ایک کلپ نے میرے وجود کو جھنجوڑا اور شدید صدمہ پہنچایا۔ اس وائرل کلپ میں ایک عمر رسیدہ ماں اپنے بیٹے کی میت کو ڈھانپنے کے لئے اپنا دوپٹا اوڑھے ہوئے تھی اور بکھرے بالوں، کربناک روح لیے بے سہارا کھڑی قیامت کی گھڑی سے گزر رہی تھی۔ یہ صرف ایک ماں کی بے بسی کی کہانی نہیں بلکہ ہم تمام ذمہ دار انسانوں کی بے بسی کی روداد ہے۔ یہ ایک کہانی ہے۔کتنی اور مجبور مائیں ہوں گی جو بے گناہ اپنے جوان بیٹوں کی میتوں پر آنسو قربان کر بیٹھی ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی دکھ کو اپنے اندر لئے پھرتا ہے مگر ہم نے ایک دوسرے سے پوچھنا چھوڑ دیا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو؟
اگر انسان دوسرے انسان کا درد سمجھنا شروع کر دے تو شاید دنیا کے بہت سے مسائل خود بخود چھوٹے ہو جائیں۔ بھوک صرف اس شخص کا مسئلہ نہیں جو بھوکا ہے، ناانصافی صرف مظلوم کا مسئلہ نہیں، جنگ صرف اس گھر کا مسئلہ نہیں جس پر بم گرتا ہے۔ انسانیت کا مطلب ہی یہی ہے کہ دوسروں کا دکھ ہمیں اپنا دکھ محسوس ہو۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ دنیا بدلنی چاہئے۔مگر دنیا آخر ہے کیا؟ دنیا ہم ہی تو ہیں۔ اگر میں جھوٹ بولتا ہوں تو دنیا میں جھوٹ کا ایک حصہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر میں کسی کمزور کا حق مارتا ہوں تو ناانصافی کا ایک واقعہ مزید پیدا ہوتا ہے۔ اگر میں کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھام لیتا ہوں تو دنیا میں انسانیت کا ایک چراغ روشن ہو جاتا ہے۔ دنیا بڑے نعروں سے نہیں چھوٹے کرداروں سے بدلتی ہے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا شاید عالمی سیاست کو تبدیل نہ کرے مگر اس ایک انسان کے لئے دنیا ضرور بدل سکتی ہے۔ کسی مایوس شخص کو امید دے دینا شاید تاریخ کی کتاب میں درج نہ ہو،مگر اس کی زندگی کی سمت بدل سکتی ہے۔
ہمیں شاید دوبارہ انسان بننے کی ضرورت ہے۔ ایسا انسان جو اختلاف کرے مگر نفرت نہ کرے۔ سوال کرے توہین نہ کرے۔ طاقت حاصل کرے مگر کمزور کو نہ کچلے۔کامیاب ہو مگر دوسروں کو ناکام بنانے کی قیمت پر نہیں۔اپنے لئے جئے مگر دوسروں کے جینے کا حق بھی تسلیم کرے۔ جو نصیحت کرے توہین نہ کرے۔ ایمان کے فتوے جاری نہ کرے۔ زاہد اور واعظ تو بہت ہیں،انسانوں کو اصولی اور سچے رہنماو¿ں کی حسرت ہے۔ ہمیں ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں انسان کی قدر اس کے لباس، عہدے، دولت یا نام سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ہو۔
آج دنیا بے رحمی کی انتہا کو چھو رہی ہے۔ جہاں دیکھیں ظلم و بربریت کا سماں ہے،جہالت اور اندھیرا ہر طرف چھائے ہوئے ہیں۔ انسان تڑپ رہے ہیں،چیخیں بلند ہو رہی ہیں،درد تڑپا رہا ہے بےگناہ انسانوں کو۔
دنیا میں انسانوں بالخصوص مسلمانوں کی موجودگی میں فلسطین جھلس رہا ہے۔ عورتیں، بچے، جوان، بوڑھے ہر طرح کا انسان اس بے رحم آگ کی لپیٹ میں ہے۔ لاکھوں شہری اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں،لاکھوں بے گھر ہوئے۔ مائیں تڑپ تڑپ کر دہائیاں دے رہی ہیں اور پکار رہی ہیں بے حس دنیا کو۔ اس میں موجود بے حس انسانوں کو کہ اے زمین والو! ہماری آواز بنو۔ ہم شدید تکلیف میں ہیں۔ یہاں بھوک ہے، افلاس ہے، بارود کی بو ہے اور انسانوں کے خون کی ندیاں ہیں۔ ہم جائیں تو کہاں جائیں؟ پکاریں تو کس کو پکاریں؟ خدارا آواز اٹھائیں یہ وادی جہنم بن جائے گی۔ یہ بستی ہستی سے مٹ جائے گی۔آج ہم بے رحمی کا شکار ہیں کل آپ ہو سکتے ہیں۔ ہمارا سہارا بنیں۔ ہماری نسلیں آدھی رہ گئی ہیں۔ مگر یہ دنیا کا بے حس انسان ہے کہ سنتا نہیں، حق کے لئے اٹھتا نہیں، مظلوم کی حمایت میں نہیں نکلتا۔ یہ صرف فلسطین کا مسئلہ نہیں ہر ذی شعور انسان کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اب تک بیشتر انسان اس امتحان میں فیل ہو چکے ہیں اور آگے کا حال اللہ جانے۔
ساحر لدھیانوی نے کہا تھا:
آو¿ کہ کوئی خواب بنیں کل کے واسطے
ورنہ یہ رات آج کے سنگین دور کی
ڈس لے گی جان و دل کو کچھ ایسے کہ جان و دل
تا عمر پھر نہ کوئی حسیں خواب بن سکیں
