کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین سابق ممبر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان ممبر بلوچستان بار کونسل راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں سابق وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق انہیں علاج کیلئے الشفاءاسپتال میں شفٹ کرنے کا جو وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا اور ان کے متعلق تاحال عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہے اور آئین پاکستان کے تحت اس کے فیصلوں اور احکامات کی پابندی تمام ریاستی اداروں اور حکام پر لازم ہے، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہ صرف آئین و قانون کی بالادستی کے لیے خطرہ ہے بلکہ عدلیہ کے وقار اور نظامِ انصاف پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ اگر کسی ریاستی ادارے یا حکومتی عہدیدار کی جانب سے سپریم کورٹ کے حکم کی جان بوجھ کر خلاف ورزی یا عدم تعمیل ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ بیان میں کہا کہ موجودہ حکومت کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملددرآمد نہ کرانا قابل مذمت جسے بلوچستان بار کونسل اور دیگر ملک گیر وکلاءتنظیموں کو تشویش ہے۔ پاکستان میں آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ تمام ریاستی اداروں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے تمام احکامات پر ان کی روح کے مطابق فوری، مکمل اور بلاامتیاز عمل درآمد کیا جائے۔
حکومت نے عمران خان کے علاج کیلئے عدالتی احکامات کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی، بلوچستان بار کونسل
