تحریر: سعید احمد
بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی، انتہاپسندی، منظم جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل مکانی، محدود ادارہ جاتی استعداد اور اپنے وسیع رقبے و اسٹریٹجک محل وقوع کے باعث پیچیدہ سیکیورٹی و انتظامی چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے۔
ان چیلنجز سے مو¿ثر انداز میں نمٹنے کے لیے محض روزمرہ انتظامی امور کافی نہیں ہوتے بلکہ مضبوط ادارے، جدید قانونی ڈھانچہ، ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ نظام اور ریاستی عملداری کو مستحکم کرنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی ناگزیر ہوتی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کی بنیاد جدید طرز حکمرانی، شفافیت، جوابدہی اور عوامی خدمت پر استوار ہے۔ اسی وژن کے تحت محکمہ داخلہ نے ڈیجیٹل اصلاحات کا ایک جامع سلسلہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان موثر رابطہ، معلومات کا بروقت تبادلہ، سرکاری امور میں شفافیت اور عوام کو سہولیات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ یہ اصلاحات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلوچستان کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ، محفوظ اور ترقی یافتہ صوبہ بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔
اس عرصے میں کی جانے والی اصلاحات صرف امن و امان برقرار رکھنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ مستقل اداروں کے قیام، گورننس کے نظام کی جدید کاری، فوجداری نظامِ انصاف کی مضبوطی اور عوامی تحفظ کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی۔
قانونی ڈھانچے کی مضبوطی
محکمہ داخلہ کی اولین ترجیحات میں بلوچستان کے قانونی اور فوجداری نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا شامل تھا۔
اس مقصد کے تحت متعدد اہم قوانین اور ترامیم متعارف کرائی گئیں جن میں گواہوں کے تحفظ کے نظام میں اصلاحات، بلوچستان فرانزک سائنس ایجنسی سے متعلق قانون سازی، دہشت گردی کے حساس مقدمات کے لیے فیس لیس کورٹس کی قانونی بنیاد، حراستی مراکز سے متعلق اصلاحات، سیف سٹی اتھارٹی کا قیام، بلوچستان پریزن اینڈ کریکشنل سروس ایکٹ 2026 اور پروبیشن اینڈ پیرول ایکٹ شامل ہیں۔
یہ اصلاحات جدید، موثر اور محفوظ فوجداری نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہیں۔
قانون سازی سے عملی ادارہ سازی تک
قانون سازی اس وقت تک موثر ثابت نہیں ہوتی جب تک اس پر عملی طور پر عمل درآمد نہ ہو۔
گزشتہ سال کی نمایاں کامیابیوں میں ایسے اداروں اور قانونی ڈھانچوں کو فعال بنانا شامل ہے جو کئی برسوں سے غیر فعال یا محدود پیمانے پر کام کر رہے تھے۔
سینٹر آف ایکسیلنس آن کاﺅنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کو مکمل طور پر فعال بنایا گیا، جو اب پالیسی سازی، تحقیق، تجزیہ اور شدت پسندی کے تدارک کے لیے شواہد پر مبنی سفارشات فراہم کر رہا ہے۔
اسی طرح قانونی تقاضوں کے مطابق پہلی مرتبہ حراستی مراکز کو فعال کیا گیا۔ کوئٹہ میں مرکز کام کر رہا ہے جبکہ تربت میں جدید مرکز زیر تعمیر ہے، جس سے حساس قیدیوں کے انتظام کے لیے ریاستی استعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
مستقبل کے لیے مضبوط اداروں کی تشکیل
محکمہ داخلہ کی گزشتہ ایک سال کی سب سے اہم کامیابی مضبوط اداروں کا قیام ہے۔
اسی سلسلے میں Provincial Intelligence Fusion and Threat Assessment Centre (PIFTAC) کو فعال کیا گیا تاکہ انٹیلی جنس شیئرنگ، خطرات کے تجزیے اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ مزید موثر بنایا جاسکے۔
اسی طرح Balochistan Integrated Security Architecture (BISA) قائم کی گئی، جس نے مختلف محکموں اور اداروں کے درمیان مربوط سیکیورٹی نظام کی بنیاد رکھی۔
بلوچستان چیریٹیز رجسٹریشن اتھارٹی (BCRA) کو فعال کیا گیا تاکہ فلاحی اداروں، این جی اوز اور مدارس کی رجسٹریشن اور نگرانی قانون کے مطابق ممکن بنائی جاسکے۔
اس کے علاوہ ریڈ نوٹس سیل، اینٹی الیگل اسپیکٹرم سیل، اینٹی سب ورژن سیل، اینٹی بھتہ گیری کوآرڈی نیشن میکانزم اور ہیومن ٹریفکنگ سیل سمیت کئی خصوصی یونٹس بھی قائم کیے گئے۔
یہ تمام اقدامات ادارہ جاتی، معلومات پر مبنی اور فعال طرز حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔
سیف سٹی اور جدید ٹیکنالوجی
جدید پولیسنگ اب ٹیکنالوجی کے بغیر ممکن نہیں۔
گزشتہ سال سیف سٹی منصوبے کو صوبائی سطح پر مربوط کیا گیا، نگرانی کا موثر نظام قائم کیا گیا اور جدید نگرانی کے آلات، ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز اور ٹیکنالوجی پر مبنی نفاذی اقدامات متعارف کرائے گئے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں مختصر عرصے میں سو سے زائد چوری شدہ گاڑیاں برآمد کی گئیں جبکہ متعدد ملزمان کو گرفتار کرنے میں بھی کامیابی حاصل ہوئی۔
مزید شہروں تک سیف سٹی منصوبے کو توسیع دینے پر بھی کام جاری ہے۔
حساس تنصیبات کا تحفظ
پہلی مرتبہ پورے صوبے میں حساس تنصیبات کے تحفظ کے نظام پر جامع انداز میں عمل درآمد کیا گیا۔
سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دیگر اہم عمارتوں کے سیکیورٹی آڈٹ کیے گئے جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زائد مقامات پر جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے، جس سے حفاظتی انتظامات اور ہنگامی ردعمل کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
انسدادِ دہشت گردی کی جدید صلاحیت
محکمہ داخلہ نے انسداد دہشت گردی کی استعداد بڑھانے کے لیے جدید ڈرون یونٹ قائم کیا، جو نگرانی، انٹیلی جنس، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور انسدادِ منشیات مہمات میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔
بم ڈسپوزل صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا گیا جبکہ حساس مقدمات کے لیے ویڈیو لنک اور فیس لیس ٹرائل کے نظام پر بھی پیش رفت کی گئی تاکہ ججز، پراسیکیوٹرز اور گواہوں کو بہتر تحفظ فراہم کیا جاسکے۔
غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی
گزشتہ سال غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کا منصوبہ صوبے کی اہم انتظامی سرگرمیوں میں شامل رہا۔
ضلعی انتظامیہ، پولیس، لیویز، اسپیشل برانچ، فرنٹیئر کور اور دیگر اداروں کے تعاون سے تقریباً 11 لاکھ غیر قانونی غیر ملکیوں کی منظم اور قانونی طریقے سے وطن واپسی ممکن بنائی گئی۔
اس اقدام سے قانون کی عملداری مضبوط ہوئی، انتظامی نگرانی بہتر ہوئی اور عوامی وسائل پر دباﺅ میں کمی آئی۔
پوست کے خلاف تاریخی مہم
محکمہ داخلہ نے غیر قانونی پوست کی کاشت کے خلاف جدید ٹیکنالوجی، ڈرون سرویلنس، زمینی تصدیق اور مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے ہزاروں ایکڑ رقبے پر کاشت شدہ پوست کو تلف کیا۔
یہ مہم صوبے کی تاریخ میں انسداد منشیات کی اہم ترین کارروائیوں میں شمار کی جاتی ہے۔
غیر قانونی تمباکو تجارت کے خلاف کارروائیاں
غیر قانونی تمباکو کی کاشت، نقل و حمل اور تجارت کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔
ریکارڈ مقدار میں غیر قانونی تمباکو ضبط کیا گیا، جس سے ٹیکس چوری کی روک تھام، غیر قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی اور معیشت کی دستاویزی شکل کو تقویت ملی۔
انتظامی اصلاحات
صوبے کے سیکیورٹی ڈھانچے میں اہم اصلاحات بھی متعارف کرائی گئیں۔
لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا گیا جبکہ سول ڈیفنس کو اسپیشل برانچ کا حصہ بنایا گیا، جس سے ادارہ جاتی ہم آہنگی، وسائل کے موثر استعمال اور انتظامی کارکردگی میں اضافہ ہوا۔
مستقبل کا سفر
گزشتہ ایک سال کے دوران کی جانے والی اصلاحات ایک وسیع تر تبدیلی کے عمل کا آغاز ہیں۔
اگرچہ بلوچستان کو اب بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم مضبوط اداروں، جدید قوانین، موثر نفاذ اور ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاءلانگو، محکمہ داخلہ کے افسران، تکنیکی ماہرین اور متعلقہ ٹیموں کی مشترکہ کاوشوں سے یہ اصلاحات عملی شکل اختیار کر رہی ہیں، جن کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر، تیز رفتار اور شفاف سرکاری خدمات فراہم کرنا اور جدید طرز حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔
قانون سازی سے ادارہ سازی کا یہ سفر درحقیقت ایک محفوظ، مستحکم، پرامن اور ترقی یافتہ بلوچستان کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
قانون سازی سے ادارہ سازی تک حکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ میں اصلاحات اور تبدیلی کا ایک سال
