ہماری بچیوں کو اغوا، لوگوں کو قتل کرنیوالے نواب ثناءاللہ کے کارندے ہیں، ہدایت الرحمن

کوئٹہ (ویب ڈیسک) جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے اسمبلی اجلاس میں اپنی تقریر میں کہا ہے کہ نواب آف جھالاوان اس کا ذمہ دار ہے، جس کو نواب ثناءاللہ زہری کہتے ہیں، ان قاتلوں کا سرپرست ہے، ایس ایس پی کو دباﺅ ڈالتا ہے، کیوں نام نہیں لیتے اپنے اقتدار کے خاطر، نواب آف جھالاوان کے کارندے ہیں یہ قاتل، یہ ہماری بچیوں کے اغوا کرنیوالے نواب آف جھالاوان کے کارندے ہیں، لوگوں کو قتل کرکے نواب آف جھالاوان کی گود میں جاکر بیٹھتے ہیں، کیوں نام نہیں لیتے، ساتھی سب چھپاتے ہیں، ہمارے پیپلز پارٹی والے بھی بائیکاٹ کرتے ہیں، نواب ثناءاللہ تو آپ کی پارٹی کا ہے، نواب ثناءاللہ پیپلز پارٹی کا صوبائی صدر ہے، پیپلز پارٹی والے جواب دیں، آپ کے صوبائی صدر کے گھر میں یہ قاتل چھپے ہوئے ہیں، اگر نہیں ہے تو جواب دو، یہ قاتل کون ہیں، کیوں چھپاتے ہیں آپ لوگ، کہتے ہیں غیرت مند صوبہ ہے یہ، ہم نوابوں کی بات کرتے ہیں یہ نواب ہماری عزتوں کے رکھوالے ہوتے تھے، یہ سردار ہماری عزتوں کے محافظ ہوتے تھے، میری بچی کو تمہارا ایک درندہ اغوا کرکے اس کے والد کو مار کر تمہارے گھر میں چھپتا ہے، نواب ثناءاللہ صاحب آپ نوابی کے حق دار نہیں ہو، آپ کے گھر میں جاکر قاتل چھپتے ہیں، جو ان کے لیے بات کرتا ہے پھر آپ ان کو قتل کرتے ہیں، اور کوئی نام لینے کیلئے تیار بھی نہیں ساتھی، مجھے بتائیں نہ ایوان میں پیپلز پارٹی بتائے نہ، میں صاف نام لے رہا ہوں، میں نوابوں سے نہیں ڈرتا، بلوچستان کے حالات کے ذمہ دار یہی نواب اور سردار ہیں، ہماری قبائلی دشمنی میں یہی ہیں، آج ہماری بچیوں کے اغوا کروانے میں ملوث ہیں یہ نواب، اور پارٹیوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں، سیاسی پارٹیوں میں جاکر چھپ جاتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کے سہارے چھپ جاتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی چھتری استعمال کرتے ہیں، میں اسماءجتک کے والد کا قاتل نواب ثناءاللہ کو سمجھتا ہوں، میں ان کے ماموں کا قاتل نواب ثناءاللہ کو سمجھتا ہوں، نواب ثناءاللہ قاتل ہے میری بچی کے والد کا، کیوں چھپاتے ہو، میں نام لے رہا ہوں میں بلوچستان کا سیاسی کارکن ہوں میں نام لے رہا ہوں اس کا، جرات کرکے میں نام لے رہا ہوں، یہ پیپلز پارٹی کا صوبائی صدر ہے، یہ قاتل کون ہے، جناب اسپیکر ایس ایس پی کو ان کو ایوان میں کیوں بلا رہے ہیں، کیا اسماءکا ماموں قتل نہیں ہوا، اسماءخود اغوا نہیں ہوئی، اس کا والد قتل نہیں ہوا، وہ قرآن لیکر فریاد کررہی ہے مجھے انصاف دو اس کو انصاف اس کے والد کے قتل کی صورت میں ملتا ہے، ان کو بلانا علاج نہیں، آئی جی پولیس، ڈی آئی جی، ایس ایس پی کو ملازمت سے برخواست کرو، ان کا بوریا بستر اٹھا کر جیل میں ڈالو، یہ کس لیے رکھے ہیں، کیا زہری میں پیٹرول اور ڈیزل کے بھتے کیلئے رکھے ہیں، کیا آلو اور ٹماٹر کے بھتے کیلئے رکھے ہیں، نواب ثناءاللہ نہیں کسی کا بھی بندہ ہو، اگر نواب ثناءاللہ بھی ہے تو اس کو ہتکھڑی لگاﺅ، جیل میں ڈالو اسے، میں نواب ثناءاللہ سے کہتا ہوں کیا اسماءجتک تمہاری بیٹی نہیں ہے، آپ نواب جھالاوان ہو، نواب آف جھالاوان، جھالاوان میں اگر کسی ایک بچی کا عزت تار تار ہو تو آپ کو اس مجرم کو سامنے لانا چاہیے، نواب آف جھالاوان کے اشارے پر ایس ایس پی ایف آئی آر نہیں کررہا، نواب آف جھالاوان کے کہنے پر ڈی آئی جی گرفتار نہیں کررہا، یہ ظہور نام کا جو قاتل ہے لغڑی، میں ان کیخلاف ہتھیار اٹھانے کیلئے تیار ہوں، اگر یہ حکمران، حکومت، پولیس، اقتدار سب بے بس ہیں، میری بچی کو قرآن اٹھا کر جو فریاد کررہی تھی غیرت مند لوگو، دو گھنٹے بعد اس کے والد کی لاش اس کے گھر جاتی ہے، ہم کہتے ہیں ہم ایوان ہیں، ہم حکومت چلا رہے ہیں، ہم کہتے ہیں ہم پالیسی بنا رہے ہیں۔ یہ بی ایل اے کے لوگ تھے، حکومت بتائے، وزیر داخلہ ضیا لانگو تم بتاﺅ کیا یہ بی ایل اے کے لوگ ہیں، ٹی ٹی پی کے لوگ ہیں، بلوچستان کو آزادی کرنے والے لوگ ہیں، میں تو کہتا ہوں ضیا لانگو کو استعفا دینا چاہیے، یہ کوئی انصاف ہے، رشتے کیلئے جاتے ہیں رشتہ نہیں ملتا، والدین کہتے ہیں اس کا رشتہ ہوگیا ہے، اس کے منگیتر کو مار کر پھر آکر کہتے ہیں منگیتر تو مر گیا اب بیٹی دیدو، پھر اس کے ماموں کو قتل کرتے ہیں، پھر اس کے والد کو قتل کرتے ہیں، اس کیلئے بات کرنے و الے سب کو قتل کردیتے ہیں، گرفتار کوئی نہیں ہوتا، ایف آئی آر کوئی نہیں ہوتا۔ میں کہتا ہوں نواب آف جھالاوان ان تمام قتلوں کا ذمہ دار ہے اور اگر حکومت کے اندر ہمت ہے تو نواب ثناءاللہ اور اس کے کارندوں کو کٹہرے میں لاﺅ، میری بچی کے خاندان کے تمام قتل ہونیوالوں کے مقدمات ان پر درج کرو، اور چھاپہ مارو نواب ثناءاللہ کے گھر پر جاکر چھاپہ مارو اسماءکے والد کا قاتل اس گھر میں آپ کو پڑا ہوا ملے گا، علی مدد جتک نے نہیں بتایا آپ کو گھر، یونس بھائی نے نہیں بتایا گھر کا، میں بتا رہا ہوں میں آپ کو سو فیصد گھر کا بتا رہا ہوں کہ قاتل نواب ثناءاللہ کے گھر جاکر چھپتے ہیں، میرے ساتھی کہہ رہے ہیں کہ آپ کی خیر نہیں، نواب ثناءاللہ مجھے نہیں مارے گا، یہ غریبوں کو مارتا ہے، میں جماعت اسلامی کا سیاسی کارکن ہوں یہ مجھے دھمکی دینے کی بھی ہمت نہیں رکھتا، اس کے کارندے مجھے دھمکی تک نہیں دے سکتے، آج نوابوں کی کوئی حیثیت نہیں، اسٹیبلشمنٹ کے سہارے نواب بنے پھرتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کے سہارے یہ بندوقوں میں پھرتے ہیں، میری بچیوں کو اغوا کرتے ہیں، میری بچیوں کے والد کو مارتے ہیں، یہ خود کوئی حیثیت نہیں ہے، یہ اسٹیبلشمنٹ کے سہارے ظلم کرتے ہیں بلوچستان میں، حکومت یہ نہ بولے کہ ہم کردیں گے ہم ماریں گے، ضیا لانگو یہ کوئی بی ایل اے کا نہیں ہے، ٹی ٹی پی کا نہیں ہے، قاتل خضدار کا ہے، زہری کے بازار میں گھومتا ہے، جس گھر میں ہے پولیس کو پتا ہے، ایجنسیوں کو سب کو پتا ہے کس گھر میں یہ قاتل ہیں، آپ جاکر چھاپہ مارو، قاتل کو پکڑو، میری بچیوں کو، میرے لوگوں کو انصاف دو، کیا نوابوں کو اجازت ہے کہ میری بچیوں کو اغوا کریں، نوابوں کو اجازت ہے کہ میری غیرت کو تار تار کریں، میں نواب سے پوچھتا ہوں کہ تمہاری بیٹی کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھے، تم بڑے غیرت مند بنتے ہو، اسماءکیلئے تم کیوں غیرت مند نہیں ہو، بڑے تم نواب آف جھالاوان بنے پھرتے ہو، تم نواب آف جھالاوان ہو تو تم قاتلوں کی سرپرستی کیوں کرتے ہو۔ ہم سب شرمندہ ہیں، ہم شرمندہ ہیں، ہم اس سے بات نہیں کرسکتے ہیں کہ اس کے باپ کا قاتل زندہ ہے۔