بلوچستان کابینہ میں ردو بدل کا معاملہ، ن لیگ کی مرکزی قیادت نے صوبائی اراکین کو خاموش رہنے کی ہدایت کردی

کوئٹہ(اے این این)بلوچستان صوبائی کابینہ میں ردوبدل کامعاملہ ایک بار پھر لٹک گیا مسلم لیگ ن کے مرکزی قیادت نے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کو خاموش رہنے کی ہدایت جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کو کابینہ میں فی الحال ردوبدل نہ کرنے کی ہدایت کردی انتہائی اہم ذرائع سے معلوم ہوا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی کابینہ میں رودبدل کا فیصلہ کیا اور اس سلسلے میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی قیادت کو اعتماد میں لے لیا جن میں کچھ وزراءکو فارغ اور بعض اراکین اسمبلی کو ان کا فارمولا بھی طے کردیا اور اس سلسلے میں نئے وزراءنے شیروانی بھی بنائی تاہم گزشتہ دنوں قبل جب مسلم لیگ ن کے ایک وفد نے پارلیمانی لیڈر میر سلیم کھوسہ کے قیادت میں ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق سے ملاقات کی ملاقات کے دوران مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی نے بلوچستان میں ڈھائی ڈھائی سالہ معاہدے کا ذکر بھی کیا اور کابینہ میں رووبدل کے حوالے سے تحفظات قیادت کے سامنے رکھ لیے ذرائع کے مطابق مسلم لیگ کی قیادت نے ڈھائی سالہ معاہدے کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے اراکین کو فی الحال خاموش اور ستمبر تک انتظار کرنے کی ہدایت کرلی جبکہ ردوبدل کے حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان کو ہدایت کی کہ فی الحال کابینہ میں ردوبدل مسائل ومشکلات پیدا کرے گی اسے موخر کیا جائے۔