کوئٹہ (ویب ڈیسک) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی مقامی اسپتال آمد ،ہنہ اڑک دہشت گردی واقعے میں زخمیوں کی عیادت، نیک خواہشات کا اظہار و بہادری پر شاباش۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ شہداءکے خاندانوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے، متاثرہ خاندانوں کی کفالت حکومت بلوچستان کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ شہداءکے بچوں کو سولہ سال تک مفت تعلیم، اسکالرشپس اور مکمل سرپرستی فراہم کی جائے گی۔ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں، مالی امداد کے ساتھ شہداءکے اہل خانہ کی ہر ممکن دیکھ بھال یقینی بنائیں گے۔ گزشتہ چند ماہ میں ایک پولیس جوان چوتھی مرتبہ دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے زخمی ہوا، بلوچستان پولیس کی قربانیاں قوم کا فخر ہیں۔ بلوچستان پولیس نے قلیل عرصے میں دہشت گردی کے خلاف اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھرپور ثبوت دیا ہے۔ تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ دہشت گرد نرم اہداف کو نشانہ بنا کر خوف پھیلانا چاہتے ہیں، ریاست پوری قوت سے ان کے مذموم عزائم ناکام بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا حقائق کے منافی ہے، ریاست کی رٹ ہر قیمت پر برقرار رکھی جائے گی۔ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
ہنہ اوڑک واقعہ قابل مذمت، شہداء کے بچوں کو مفت تعلیم، اسکالر شپس اور مکمل سرپرستی فراہم کی جائے گی، وزیراعلیٰ بلوچستان
