سوئٹزر لینڈ، پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات تعطل کا شکار، ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایرانی وفد واپس روانہ

سوئٹزرلینڈ (بلوچستان نیوز) پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان برکن اسٹاک میں جاری تکنیکی مذاکرات میں تعطل آگیا ہے، پہلے وقفے کے بعد دوسرا دور شروع نہ ہوسکا۔ ایرانی وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد احتجاجاً شرکت سے انکار کردیا۔ سوئٹزر لینڈ کے برکن اسٹاک کی ایک لوزن سمٹ کے کانفرنس ہال میں سب سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی داخل ہوئے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ کانفرنس پہنچے تو پاکستانی وفد نے ان کا استقبال کیا۔ پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 80 منٹ جاری رہا، ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت حملوں کی دھمکی دی جس پر باقر قالیباف نے مذاکراتی مقام سے واک آﺅٹ کردیا، اس کے جواب میں باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا اپنے بیانات میں احتیاط کرے، ہماری افواج جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات کے پہلے مرحلے میں لبنان کی صورت حال اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق امور پر گفتگو ہوئی، اسی دوران ایرانی وفد نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات پر بھی احتجاج ریکارڈ کرایا۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکا ایران مذاکرات کے پہلے دور میں لبنان کی صورت حال اور جنگ بندی سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ خبر رساں ادارے العریبیہ کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم نے واضح مو¿قف اپناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان میں مستقل جنگ بندی کے اعلان تک کسی دوسرے مسئلے پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مذاکرات میں تہران کی شرکت کا مقصد ’اسلام آباد میمورنڈم‘ پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حتمی معاہدے پر مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہوسکتے جب تک اس دستاویز کے پانچ اہم نکات پر عمل درآمد کی ضمانت نہ دی جائے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق چار فریقی مذاکرات مکمل ہونے کے بعد ایرانی وفد واپس وطن روانہ ہوگیا۔