خضدار (نمائندہ بلوچستان نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) خضدارکے ضلعی ترجمان نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں غربت کے مارے بے روزگار انجینئرز پڑھے لکھے ڈگری ہولڈر اور بے روزگار نوجوانوں کی دادرسی کرنے والاکوئی نہیں، بے روزگار انجینئرز ڈگری ہولڈرز کے کوٹہ پر غیر مقامی افراد کو بھرتی کرکے انکے حقوق پر براہ راست ڈاکہ ڈالا جارہاہے، میرٹ کی پامالی، اسامیوں کی غیر منصفانہ تقسیم ناقابل برداشت عمل بن چکا۔ بی این پی عوامی نے بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کیلئے ہرفورم میں آواز بلندکی ہے، پارٹی کے مرکزی صدر سابق وفاقی وزیر میر اسراراللہ خان زہری جب برسراقتدار تھے توانہوں نے یہاں کے بےروزگار تعلیم یافتہ پڑھالکھا نوجوانوں کو 18 گریڈ تک نوکریوں میں کھپایا ، اس کے علاوہ بی این پی عوامی کے قائدین ہرمحکمہ میں میرٹ اور معذور افراد کا کوٹہ کو پانچ فیصد بھی بحال رکھا، بی این پی عوامی کی عوام دوست پالیسیوں کو دیکھ کربے روزگار نوجوانوں کے حقوق پرڈاکہ ڈالنے کیلئے پارلیمنٹ میں انکی راہیں روکی جارہی ہیں ان لوگوں کو پارلیمنٹ میں لایاجاتاہے جسکو الف ب بھی نہیں جانتا، انہوں نے کہا بے روزگار انجینئرز اور تعلیم یافتہ دیگر ڈگری ہولڈرز نوجوانوں کے حقوق پر غیر مقامی افراد کو بھرتی کرکے یہاں کے نوجوانوں کو ماسوائے خودکشی کرنے کے باقی کچھ نہیں۔ بی این پی عوامی کے سیاسی میدان میں رکاوٹ بننے کا مقصد یہاں کے مقامی بے روزگار نوجوانوں کے بجائے غیر مقامی افراد کو بھرتی کرواناہے۔ بی این پی عوامی غیرسیاسی اورغیرجمہوری عمل کو ہرگزبرداشت نہیں کرے گی۔ ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کی پوسٹوں پر بھرتی کا نوٹس لیا جائے۔
میرٹ کی پامالی نوجوانوں کے حق پر ڈاکہ ہے، بی این پی عوامی
