کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی کا اجلاس وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن ایک اہم ادارہ ہے۔ ماضی میں اس ادارے پر رشوت کے الزامات لگتے رہے، تاہم اب میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے سابق جسٹس امان اللہ یاسین زی نے(جسٹس کوہلی) کو ایماندار شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔اپوزیشن رہنما زمرہ خان اچکزئی نے کہا کہ انہیں جسٹس کوہلی کی ایمانداری پر شک نہیں، تاہم پبلک سروس کمیشن میں سیٹوں کی فروخت کے حوالے سے الزامات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن اسد بلوچ نے پنجگور کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں روزانہ لاشیں گر رہی ہیں اور عوام لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنجگور کے عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے جرگہ بلایا جائے اور ریاست کو نرم رویہ اختیار کرنا چاہیے۔وزیراعلی میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کرد دہشتگردی کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور بلوچستان کے عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 14 ارب روپے نان ڈویلپمنٹ اخراجات سے بچائے گئے جبکہ وزیراعلی ہاوس میں موجود غیر ضروری 435 آسامیاں ختم کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں 12 ارب روپے کا ہیلتھ انشورنس سسٹم بھی متعارف کروایا گیا ہے۔انہوں نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے قانون سازی کی گئی ہے اور حکومت صرف بات نہیں بلکہ مسائل کا حل چاہتی ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ بعض عناصر بلوچ نوجوانوں کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ان کے بقول بشیر زیب اور اس کے ساتھیوں نے 190 بلوچوں کو قتل کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی شناخت پاکستانی ہے اور اس کے بعد بلوچ ہیں، جبکہ بلوچستان میں بہتر گورننس کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔بعد ازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 7 اپریل تک ملتوی کردیا۔
عزت دیں اور عزت لیں،بعض عناصر بلوچوں کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں،وزیراعلیٰ بگٹی
