امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں شدت، اموات 1300 سے تجاوز ، ایران کا بھی حملوں کی نئی لہر شروع

حال ہی میں ایرانی حملوں میں ہونے والے امریکی نقصانات کی تصاویر جاری کی گئی تھیں۔

اردن، عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی میزائل دفاعی ریڈارز تھاڈ کو نشانہ بنانے کی تصاویر بھی شائع کی گئیں جس کے بعد سیٹلائٹ کمپنی نے مشرق وسطیٰ کی تصاویر فوری جاری کرنے پرعارضی پابندی لگا دی ہے۔

سیٹلائٹ کمپنی کے مطابق خلیجی ممالک، عراق اور جنگی علاقوں کی نئی سیٹلائٹ تصاویر 96 گھنٹے تاخیر سے جاری ہوں گی۔

سیٹلائٹ کمپنی نے بتایا کہ امریکا اور عسکری صارفین کو فوری رسائی بدستور حاصل رہے گی جب کہ ایران کی سیٹلائٹ تصاویر بدستور فوری طور پر دستیاب رہیں گی۔

سیٹلائٹ کمپنی کے مطابق امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ کمپنی کے بڑے معاہدے موجود ہیں۔امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں، عرب میڈیا کے مطابق مجموعی طور اب تک ایران پر حملوں سے اموات 1300 سے تجاوز کرگئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق شہر خمین میں امریکی میزائل حملے میں ڈاکٹر حافظ خمینی اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جس سے قریبی رہائشی گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔ 

تہران میں رات کے وقت شدید ترین بمباری کی گئی، مشرقی، جنوبی اور مغربی علاقوں میں زور دار دھماکے سنے گئے، تہران کے رسالت اسکوائر کے قریب حملوں میں 40 افراد شہید ہوگئے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی افواج ایرانی میزائل لانچرز کی تلاش جاری رکھیں گے اور جہاں بھی ملیں گے انہیں تباہ کر دیں گے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائیوں میں33ویں لہر کے تحت مزید میزائل حملے شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ ایک ٹن یا اِس سے زیادہ وزن کے بھاری میزائل استعمال کیے جائیں گے۔