فغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب للحق شروع کیا جا چکا ہے۔ فتنة الخوارج کے خلاف پہلے ہی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ہماری مسلح افواج بشمول پاک فوج و پاک فضائیہ ڈیورنڈ لائن کے آرپار دہشت گردوں کے خلاف برسر پیکار ہے۔ آپریشن غضب للحق دراصل دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ پاکستان نے افغانوں کی تحریک آزادی کی کامیابی کے لئے آخری وقت تک ساتھ دیا تھا۔ سوویت یونین کے خلاف مجاہدین ہوں یا امریکی اتحادی افواج کے خلاف طالبان، پاکستان ان کے ساتھ کھڑا رہا۔ نظریاتی طور پر ہی نہیں بلکہ عملاً بھی ان کا ممدو مددگار رہا۔ امریکی غیض و غضب کے باوجود پاکستان، طالبان لیڈروں کو بچاتا رہا۔ امریکیوں نے اسی وجہ سے پاکستان پر دوغلا کردار ادا کرنے کا الزام بھی لگایا۔ پاکستان 1979ءسے افغان جنگوں میں فرنٹ لائن ریاست کے طور پر افغانوں کے حمایتی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کے ایسے کردار کے بغیر افغان تحاریک آزادی کامیاب نہیں ہو سکتی تھیں۔ سوویت یونین کے خلاف صف آراءایک بہت بڑے گوریلا لیڈر انجینئر گلبدین حکمت یار نے راقم کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے برملا کہا کہ وسط ایشیائی ریاستوں میں بسنے والے مسلمان، افغانوں سے بھی بہادر تھے۔ انہوں نے سوویت جبر کا بہادری سے مقابلہ کیا لیکن کیونکہ ان کے پاس پاکستان جیسی محفوظ پناہ گاہ نہیں تھی جس کے باعث وہ اپنی آزادی کی جنگ جیت نہ سکے اور اشتراکی ریاست میں ضم کر دیئے گئے۔ ذرا غور کریں اگر سوویت یونین اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتا، مجاہدین افغانستان پر غلبہ پا لیتا تو آج افغانستان ایک بھولی بسری داستان بن چکا ہوتا۔ دسمبر 79ءمیں جب اشتراکی افواج، دریائے آمو کراس کر کے افغانستان میں داخل ہوئیں تو امریکی صدر نے بیان دیا تھا کہ افغانستان تو اب بھولی بسری داستان بن گیا۔ پاکستان کو اب اپنے سرحدی علاقوں کی حفاظت کا بندوبست کرنا چاہئے اور اس کے لئے انہوں نے پاکستان کو 300 ملین ڈالر کی امداد کی پیشکش کی جسے صدر پاکستان جنرل محمد ضیاءالحق نے مونگ پھلی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ جنرل ضیاءالحق نے بکھرے ہوئے افغان گروپوں کو منظم کیا، مسلح کیا، انہیں تربیت دی اور سوویت افواج کےخلاف میدان میں اتارا۔ یہ پاکستان کی فراخدلی اور مدد تھی کہ افغان مجاہدین نے عظیم الشان کامیابی حاصل کی۔ مجاہدین کے اہل و عیال اور عام افغانوں کو یہاں پناہ دی، اس دور میں 40 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین یہاں پاکستان میں پناہ گرین ہوئے۔ یہاں انہوں نے اپنا حال ہی نہیں مستقبل بھی بنایا۔ پاکستان کے پاسپورٹ پر بہت سے مہاجرین رزق و روزگار کے حصول کےلئے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں گئے۔ بہت سوں نے یورپی ممالک امیگریشن حاصل کی۔ پاکستان کی سرزمین افغانوں کےلئے ارض موعود ثابت ہوئی۔ پاکستان نے اپنی آزادی کےلئے سوویت افواج کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کو گولی و روٹی مہیا کرنے کا بندوبست بھی کیا، ان کی تحریک آزادی کامیاب ہو گئی پھر یہ خود آپس میں دست و گریبان ہو گئے۔ افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔ طالبان منظر پر ابھرے انہوں نے پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ افغانستان دنیا میں کسی نے بھی ان کی حکومت کو جائز تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان نے تسلیم کیا انہیں سہولیات فراہم کیں۔ حتیٰ کہ 9/11 ہو گیا۔ امریکی اتحادی افواج افغانستان پر چڑھ دوڑیں۔ 20 سال تک یہاں آتش و آہن کا کھیل جاری رہا۔ پاکستان ان 20 سال کے دوران طالبان اور افغانوں کے لئے گوشہ عاقبت بنا رہا۔ ہم نے اپنی زمین لہولہان کرالی۔ دہشت گردی کا عفریت ہم پر حملہ آور رہا۔ امریکی پٹھو افغان حکمران اور بھارتی ایجنسیاں پاکستان کےخلاف برسرپیکار رہیں۔ امریکی اتحادی فوجی طالبان اور افغان عوام پر ظلم ڈھاتے رہے۔ انڈین حکومت ان کا ساتھ دیتی رہی۔ آج طالبان اگر انہی بھارتی حکمرانوں کے ساتھ دوستی کریں تو پاکستان کو تکلیف نہیں ہو گی۔ ہندوستان، مودی یا کوئی اور حکمران ہو، سب فکری طور پر طالبان کے دشمن ہیں۔ آج طالبان کے ساتھ ان کی محبت کا کیا مطلب ہے۔ مودی اسرائیل کی پارلیمنٹ میں خطاب کرتا ہے اور افغان طالبان کا بڑی محبت سے ذکر کرتا ہے۔ پاکستان کے طالبان پر ظلم و ستم کا رونا روتا ہے، جواباً فلسطینیوں کا قاتل عربوں کا دشمن نیتن یاہو اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے اور طالبان سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ ہنود اور یہود مل جل کر آج طالبان کی حمایت کر رہے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے۔ ہندوستان کی مودی سرکار ایک طرف کشمیری مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہے۔ پاکستان سے مئی 2025ءکی شکست کا بدلہ لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ دوسری طرف نیتن یاہو فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ ان پر عرصہ حیات تنگ کر چکا ہے، ایسے حالات میں مودی اور نیتن یاہو کا افغان طالبان سے ہمدردی کا مطلب بڑا واضح ہے کہ یہ طالبان دراصل فتنہ ہیں کفر ان کا ساتھی ہے اور یہ فتنہ و فساد پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ ان کا سر کچلنا عین شریعت محمدی اور احکامات قرآنی کے مطابق ہے۔ آپریشن غضب للحق عین اسلامی احکامات کے مطابق ہی نہیں ہے بلکہ پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں اور خطے میں قیام امن کےلئے ضروری ہے۔ پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔
آپریشن غضب للحق: پاک فوج زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد
