آخر کار وہ دن آن پہنچا جس کی میں شدت سے منتظر تھی۔ ہم گاڑیوں کے قافلے میںڈاک یار ڈ پہنچے۔ یہاں ہمیں پاکستان نیوی شپ بابر (PNS Babur)میں سوار ہونا تھا۔سیکیورٹی کے پیش نظر، جہاز میں داخل ہونے سے قبل ہمارے موبائل وغیرہ تحویل میں لے لئے گئے۔ اس کے بعد ہم پی۔ این۔ ایس بابر میں سوار ہو گئے۔ آج سارا دن ہمیں اس جنگی جہاز میں گزارنا تھا۔ یہ جنگی جہاز جدید اسلحہ، ریڈار وغیرہ سے لیس ہے۔ یہ طویل سمندری گشت، دشمن کے حملوں سے دفاع وغیرہ کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ جہاز بین الاقوامی مشقوں میں بھی حصہ لیتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ پی۔ این۔ایس بابر میں سوار ہونا۔گھنٹوں اس جہاز میں گزارنا، اس کے عملے سے ملنا، اس جہاز کے مختلف حصوں کا جائزہ لینا، نہایت اعزاز کی بات تھی۔
کمانڈر پاکستان فلیٹ عبد المنیب صاحب نے ہمیں اس جہاز کے آپریشنز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ جہاز کیسے کام کرتا ہے۔ اس کی خصوصیات کیا ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔پی۔ این ۔ایس بابر پر ہمیں گولہ باری کا عملی مظاہرہ کر کے دکھایا گیا کہ کیسے دشمن کے جہاز وں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہماری آگاہی کیلئے یہ منظر بھی ترتیب دیا گیا تھا کہ کس طرح چھوٹی کشتیوں میں بحری قزا ق جہاز کے قریب آتے اور اسے اغوا کرتے ہیں۔ پھر نیوی کا ہیلی کاپٹر آتا ہے اور جوان ایک رسے سے لٹک کر بحری جہاز پر اترتے ہیں اور قزاقوں کے خلاف آپریشن کرتے ہیں۔ اس مشق کا عملی مظاہرہ دیکھنا نہایت دلچسپ اور معلوماتی تجربہ تھا۔ یہ بات سن کر بے حد افسوس ہوا کہ اس قدر قیمتی سمندر میں ہم نے آلودگی پھیلا رکھی ہے۔ اس سے سمندر کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے۔ اس کا پانی بے حد گدلا ہو گیا ہے۔ اس میں پھینکے گئے صنعتی فضلے، گھریلو سیوریج، پلاسٹک اورکچرے وغیرہ کی وجہ سے مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ آبی حیات کی زندگی سخت خطرے میں ہے۔ اس آلودگی سے بحری جہاز بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اس گفتگو کے دوران میں سوچتی رہی کہ ہم ہر کام حکومتوں کی ذمہ داری قرار دے کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔آخر ہم عوام اور شہریوں کی بھی تو کوئی ذمہ داری بنتی ہے۔
پی۔ این۔ ایس بابر میں عمدہ کھانوں سے ہماری تواضح کی گئی۔ یہ کھانے باورچیوں نے جہاز کے کچن میں تیار کئے تھے۔واپسی کے سفر میں تمام شرکاء مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے رہے۔میجر جنرل صاحب اپنی فوجی زندگی کے مختلف قصے سناتے رہے۔ کچھ جذباتی واقعات بھی انہوں نے سنائے کہ کس طرح فوجی جوان اس ملک کے لئے قربانیاں دے رہی ہے۔ میں نے میجر جنرل صاحب سے پوچھا کہ آپ جیسے سینئر افسر کو بھلا اس کورس کا کیا فائدہ ہے؟۔ انہوں نے بتایا کہ انکے لئے بہت سی چیزیں بالکل نئی اور بہت معلوماتی ہیں۔ ہمارے ساتھ بلوچستا ن کی وزیر تعلیم محترمہ راحیلہ درانی بھی موجود تھیں۔ راحیلہ درانی صاحبہ کی سادگی اور محبت بھرے انداز نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک ایم ایل اے احمد رضا قادری صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ قادری صاحب کی تاریخ پر گرفت سے میں بہت متاثر ہوئی۔ اس قدر صاحب علم اور عمدہ گفتگو کرنے والا سیاست دان کم کم ہی نظر آتا ہے۔واپسی کے سفر میں میں بچیوں کی چھوٹی عمر میں شادی کے حوالے سے ایک گرما گرم، لیکن معلوماتی بحث ہوئی۔ بلوچستان، سندھ، پنجاب ، کشمیر کا نقطہ نظر سننے کا موقع ملا۔ ہندو کمیونٹی کا بھی۔میں نے بھی اس گفتگو میں حصہ ڈالا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قوانین اس علاقے اور صوبے کی روایات اور صورتحال کو مدنظر رکھ کر بنائے جائیں تب ہی مفید ہو سکتے ہیں۔ پی۔ این ۔ایس بابر پر کھلے سمندر کے بیچ عملے ، افسران اور روکشاپ کے شرکاء نے باجماعت نماز ادا کی۔ مجھے یہ منظر نہایت اچھا لگا۔ رات ڈھلے ہم ایک نہایت معلوماتی اور دلچسپ دن گزار کر خوشگوا ر یادوں کیساتھ واپس لوٹے۔
اگلی صبح ہم سب اپنے ہوٹل سے نکلے اور ایک مرتبہ پھر پی۔این۔ ایس مہران پہنچے۔ یہاں سے ہم پاکستان نیوی کے سی ۔کنگ ہیلی کاپٹروں میں سوار ہوئے اور شاہ بندر کیلئے روانہ ہوگئے۔ اس سفر کا مقصد ہمیں سر کریک کے علاقے کا دورہ کرانا اور اس تنازعے کے بارے میں معلومات دینا تھا۔ یہ آگہی فراہم کرنا تھا کہ اس تنازعے کی وجہ سے ہمیں کن خطرات کا سامنا ہے اور پاکستان نیوی کے جوان اس مشکل علاقے میں کیسے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ میں زندگی میں پہلی مرتبہ نیوی کے سی۔ کنگ ہیلی کاپٹر میںسفر کر رہی تھی۔ لہٰذا میں نے موبائل میں کچھ تصاویر لیں اور کچھ ویڈیوز بنا ئیں۔ہیلی کاپٹر کے پنکھوں کے شور سے بچنے کیلئے ہم نے کانوں پر ائیر پروٹیکٹر لگا رکھے تھے۔اس صورتحال میں ہم محض اشاروں میں بات کر سکتے تھے۔میں نے دیکھا کہ پائلیٹ کے دو معاونین ایک چھوٹی سی ڈائری میں لکھ کر ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوںنے ہمیں تصاویر بناتے دیکھا تو ایک پرچی پر کچھ لکھا اور یہ پرچی مجھے تھما دی۔ انگریزی میں لکھا تھا کہ ہیلی کاپٹر کے اندرونی حصے ( مشینری )کی تصاویر مت لیں ۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو انہوں نے ایک اور جملہ لکھ کر پر چی میرے آگے کی۔ لکھا تھا کہ اپنے موبائل میں سے بھی یہ تصاویر ڈیلیٹ کر دیجئے۔ یہ ہماری سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور تصاویر ڈیلیٹ کر دیں۔ ہیلی کاپٹر غالبا گھنٹہ بھر اڑا اور اس کے بعد مطلوبہ مقام پر جا پہنچا۔
یہاں ہمارے لئے ایک بریفنگ کا انتظام تھا۔ کمانڈر کریک، جن سے کمانڈر کراچی کے عشائیے میں ملاقات ہوئی تھی، انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ یہاں ہمارے لئے ایک نہایت فکر انگریز بریفنگ کا بندوبست تھا۔ سر کریک کا نام خبروں وغیرہ کے ذریعے میں نے سن رکھا تھا تاہم میں اس تنازعے سے یکسر لاعلم تھی۔ یہاں سرکریک کے بارے میں نہایت عمدہ اور معلوماتی گفتگو سننے کو ملی۔ سرکریک ، سندھ کے جنوب مشرق میں واقع ایک سمندری ندی ہے۔یہ جنوبی ایشیا کے نقشے میں بظاہر ایک باریک سی لکیر اور عام سا علاقہ ہے۔تاہم یہ علاقہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ رن آف کچھ کی اس سنسان اورکیچڑ آلود کھاڑی کے کنارے دنیا کی دو ایٹمی قوتیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ پتہ چلا کہ یہ کوئی نیا تنازعہ نہیں ہے۔ انگریز دور حکومت میں سندھ اور کچھ کی سرحد واضح طور پر طے کر دی گئی تھی۔ نقشوں میں ایک سبز لکیر کھینچ کر مشرقی کنارے کو سرحد قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان کا نکتہ نظر سیدھا اور واضح ہے۔ موقف یہ ہے کہ آزادی سے قبل یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے ۔ لہذا یہ کوئی غیر حل شدہ تنازعہ نہیں ہے ۔ پاکستان اس سرحد کو اپنی خود مختاری اور قانونی حق سمجھتا ہے۔ جبکہ بھارت جس طرح دیگر معاملات پر پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ سینگ پھنسائے رکھتا ہے، اسی طرح اس معاملے کو بھی متنازعہ بنائے رکھنا چاہتا ہے۔بھارت نے سرکریک کے اطراف میں چوکیاں قائم کر رکھی ہیں۔اس کی بارڈر سیکیورٹی فورس یونٹس، کوسٹ گارڈ ز اور بحری یونٹس یہاں موجود ہیں۔ پاکستان نیوی کی 301 کریکس بریگیڈ یہاں اپنے فرائض سر انجام دیتی ہے، لیکن اس بریگیڈ کی موجودگی صرف دفاعی مقاصد کیلئے ہے۔
ہمیں جو بریفنگ دی گئی اس سے معلوم ہوا کہ یہ کس قدر مشکل اور دشوار گزار علاقہ ہے۔ عام آدمی شاید یہاں چند منٹ سے زیادہ وقت نا گزار سکے۔ تاہم نیوی کے جوان اپنی قومی خود مختاری کے تحفظ کیلئے دن رات یہاں ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں۔بارش ہو، تیز دھوپ، یاشدید سردی، وہ یہاں چھوٹے چھوٹے کیمپوں میں، پوسٹوں پر وہ ہر آن مستعد رہتے ہیں۔ کشتیوں میں گشت کرتے ہیں۔ دشمن کی مداخلت اور اس کی ہر حرکت پر نگاہ رکھتے ہیں۔ یہ سارا کام نہایت خاموشی سے ہو رہا ہے۔ نا کوئی تشہیر، نا تصویر۔ کمانڈر کریک نے یہ بھی بتایا کہ نیوی کس طرح پاکستانی ماہی گیروں کی راہنمائی کرتی ہے۔ انہیں غلطی سے بھارتی علاقے میں جانے سے روکتی ہے ۔ اس عمدہ بریفنگ کے بعد ہم سرکریک پہنچے، لائف جیکٹیں پہن کر کشتیوں میں بیٹھے اور اس علاقے کا دورہ کیا۔ اگرچہ پاکستان نیوی کیساتھ گزرے تمام دن نہایت معلوماتی تھے۔ تاہم سرکریک کا دورہ مجھے خصوصی طور پر بیحد دلچسپ لگا۔سرکریک کے متعلق گفتگو سنتے مجھے سیاچن کا خیال آگیا۔ خیال آیا کہ اس علاقے میں ڈیوٹی دینا بھی اتنا ہی مشکل ہو گا جیسا ہم سیاچن کے بارے میں سنتے رہے ہیں۔ سیاچن کا ذکر ہم نے سن رکھا ہے، اس کے حوالے سے کچھ ڈرامے بھی بن چکے ہیں ، تاہم سرکریک جیسے اہم اور حساس موضوع پر ہم نے کبھی اس طرح کی گفتگو سنی نا ہی کوئی ڈرامہ یا ڈاکیومنٹری میری نظر سے گزری ۔ سمندر اور سرکریک کے دوروں کے بعد ایک مرتبہ پھر اندازہ ہوا کہ پاکستان نیوی کے جوان کتنے مشکل حالات میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دفاع وطن کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔
پاکستانی سمندر اور سرکریک کا دورہ !
