کوئٹہ ( آئی این پی ) بلوچستان کے ضلع پشین میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں تخریب کاری کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے 5 مبینہ دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز سیکورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے مابین پشین کے علاقے سرخاب مہاجر کیمپ کے قریب جھڑپ میں 5مبینہ دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔سی ٹی ڈی حکام کے مطابق مارے جانیوالے دہشتگردوں میں پولیس لائن اور کیڈٹ کالج پر حملے کا منصوبہ بنارہے تھے مارے جانے والے دہشتگردوں کی گاڑی سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے اس سلسلے میں مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔دریں اثناء بلوچستان کے اضلاع خضدار اور بارکھان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے دو مختلف مسلح واقعات میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے 14 مزدوروں کو اغوا کر لیا گیا، جبکہ ایک حملے میں پولیس اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین لیا گیا۔پولیس کے مطابق خضدار سے تقریبا 50 کلومیٹر دور مولہ کے علاقے میں زیرِ تعمیر واٹر چینل منصوبے پر کام کرنے والی نجی کمپنی کے کیمپ پر موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے دھاوا بول دیا۔ حملہ آوروں نے کیمپ میں موجود گاڑی میں 9 مزدوروں کو زبردستی بٹھایا اور نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔ اغوا ہونے والوں میں پراجیکٹ منیجر گل شیر بھی شامل ہیں۔ دو مزدوروں کا تعلق سندھ جبکہ سات کا تعلق بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بتایا گیا ہے۔دوسری جانب بارکھان کے علاقے ڈھولا ندی کے قریب سڑک کی تعمیر پر کام کرنے والی نجی کمپنی کے کرش پلانٹ پر 25 سے 30 نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔ ملزمان نے ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے عملے کو یرغمال بنایا اور تین مزدوروں سمیت سیکیورٹی پر مامور تین پولیس اہلکاروں کو اغوا کر کے قریبی پہاڑی سلسلے کی طرف فرار ہونے کی کوشش کی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس پی بارکھان ڈاکٹر سعد آفریدی کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی، ناکہ بندی کی گئی اور سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ پولیس کی بروقت اور مثر کارروائی کے نتیجے میں اغوا کار پولیس اہلکاروں کو چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے، اور تینوں اہلکار بحفاظت بازیاب کر لیے گئے۔تاہم اغوا کار تین مزدوروں کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق بارکھان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ داخلی و خارجی راستوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ایس پی ڈاکٹر سعد آفریدی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ مغوی مزدوروں کی جلد بازیابی یقینی بنائی جائے گی اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
