سوئی سدرن گیس کمپنی کا کارنامہ، کوئٹہ میں خالی گھر کا ایک ماہ کا بل 44 لاکھ روپے بھیج دیا

سوئی سدرن گیس کمپنی

ماخذ: یو این اے

کوئٹہ (یو این اے) کوئٹہ میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی بلنگ کا ایسا حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے جس نے صارف کو پریشان کرنے کے ساتھ شہریوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا۔ ایک خالی مکان کا گیس استعمال صفر یونٹ بتایا گیا، لیکن بل کی رقم 44 لاکھ روپے سے تجاوز کرگئی۔ شہری نے بل دیکھ کر شاید یہی سوچا ہوگا کہ گھر میں چولہا تو نہیں جلا، مگر بل بنانے والوں نے پورا گیس نیٹ ورک اسی مکان کے نام کردیا!متاثرہ صارف کے مطابق جس گھر کا بل جاری کیا گیا وہ خالی پڑا ہے اور وہاں گیس استعمال ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لیکن اس کے باوجود سوئی سدرن گیس کمپنی نے ایک ماہ کا 44 لاکھ روپے سے زائد کا بل بھیج دیا۔ شہری کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی رقم ایک عام صارف کے لیے ادا کرنا ممکن نہیں، خاص طور پر جب گیس کا استعمال ہی صفر ہو۔شہریوں نے اس غیر معمولی بل پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر گیس استعمال نہیں ہوئی تو پھر 44 لاکھ روپے کا حساب کس بنیاد پر بنایا گیا؟ کیا میٹر نے خالی گھر میں خود ہی گیس استعمال کرلی یا بلنگ نظام نے کوئی ایسا حساب لگایا جسے سمجھنے کے لیے عام صارف کو ماہرِ حسابیات بننا پڑے گا؟متاثرہ شہری نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بل کی فوری جانچ کی جائے اور میٹر ریڈنگ، سابقہ و موجودہ ریڈنگ سمیت تمام تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ اگر یہ بلنگ یا میٹر ریڈنگ کی غلطی ہے تو اسے فوری درست کرکے نیا بل جاری کیا جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس کے بلوں میں غیر معمولی رقوم کی شکایات پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں، تاہم صفر استعمال پر 44 لاکھ روپے کا بل ایک ایسا معاملہ ہے جس کی وضاحت ضروری ہے۔ شہریوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر خالی مکان بھی لاکھوں روپے کا بل دے سکتا ہے تو پھر گیس کمپنی کے بلنگ نظام میں صارفین کو اپنی جیب کے ساتھ کیلکولیٹر بھی تیار رکھنا ہوگا۔صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی اس معاملے کا نوٹس لے، بلنگ نظام کی جانچ کرے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مثر اقدامات کرے تاکہ آئندہ کسی خالی گھر کو بھی لاکھوں روپے کا گیس استعمال کرنے والا صارف نہ بنا دیا جائے۔