کوئٹہ، ژوب، پنجگور، چمن (بلوچستان نیوز) یوم تحفظ ختم نبوت کے موقع پر بلوچستان میں علماءکرام کی جانب سے کانفرنس کا انعقاد اور ریلیاں نکالی گئیں۔ جمعیت علما اسلام حلقہ 20 شالدرہ یونٹ کے زیرِ انتظام منعقدہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صوبائی امیر مولانا مفتی محمد احمد، ضلعی نائب امیر مولانا محمد ایوب، مفتی عطا الرحمن اور مولوی نقیب اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کے ایمان کا بنیادی اور اساسی جزو ہے، اس عقیدے کے تحفظ کے لیے امت مسلمہ نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قادیانی لابی کی جانب سے آئین و قانون کی خلاف ورزی اور عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے عوام کو گمراہ کرنے کی ہر کوشش کو آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ناکام بنایا جائے گا، تحفظ ختم نبوت کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔ مقررین نے کہا کہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ کی علمی، دینی اور سیاسی بصیرت نے پاکستان میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد کو مضبوط بنیاد فراہم کی اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے تاریخی آئینی فیصلے میں ان کی سیاسی و پارلیمانی جدوجہد کا نمایاں کردار تھا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت مفتی محمود نے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور ختم نبوت کے تحفظ کو اپنی دینی و سیاسی جدوجہد کا اہم مقصد بنایا، ان کی خدمات تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے یاد رکھی جائیں گی۔ مقررین نے کہا کہ نئی نسل کو عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، آئینی حیثیت اور اس حوالے سے اکابر امت کی قربانیوں سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، علما، دینی مدارس، سیاسی کارکنان اور باشعور عوام مل کر قادیانی لابی کی گمراہ کن سرگرمیوں کا علمی و آئینی انداز میں مقابلہ کریں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئین پاکستان میں موجود اسلامی دفعات اور ختم نبوت سے متعلق قوانین پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کسی بھی فرد یا گروہ کو آئین و قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہ دی جائے۔ کانفرنس کے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، اسلامی تشخص اور آئین پاکستان کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھیں گے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک بڑی ریلی نکالی گئی، جس میں علماءکرام، سیاسی و سماجی رہنماﺅں، ٹرانسپورٹرز اور شہریوں نے شرکت کی۔ ریلی مرکزی جامع مسجد سے شروع ہوئی اور شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی ختم نبوت چوک پہنچی، جہاں ریلی نے جلسہ عام کی شکل اختیار کرلی۔ جلسہ عام کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ عطاءاللہ نے کی جلسہ عام سے مبلغ عطاءاللہ ضلعی امیر مولانا آدم خان لعون، پشتونخوا میپ کے صدر جمال خان، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما انور مندوخیل، ٹرانسپورٹ یونین کے ڈویژنل صدر عبدالجبار کاکڑ، پیر عبدالمتکبر، جمعیت علماءاسلام کے ضلعی امیر مولوی محمد سرور کاکڑ سمیت دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور ختم نبوت پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر مسلمان کے لیے عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھنا بنیادی دینی فریضہ ہے۔ مقررین نے کہا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور ختم نبوت کا عقیدہ قرآن و سنت کی روشنی میں واضح اور قطعی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے علماءکرام اور مسلمان ہمیشہ اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی اس حوالے سے پرامن طور پر آگاہی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
عقیدہ ختم نبوت پر کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، تحفظ ختم نبوت قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، علما کرام
