مولانا واسع اور نصر اللہ زیرے کی ملاقات، بلوچستان میں بدامنی کیخلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر اتفاق

کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے اور صوبائی سیکرٹری اول فقیر خوشحال کاسی نے جمعیت علماءاسلام کے صوبائی امیر و سینیٹر مولانا عبدالواسع سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن و امان کی مسلسل ابتر ہوتی ہوئی کیفیت، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، ریاستی اداروں کی کارکردگی، عوام کو درپیش سنگین مسائل اور صوبے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں دونوں رہنماﺅں نے جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس اور عدالت طلبی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے سیاسی اور آئینی موقف کے مطابق یہ حقیقت بیان کی ہے کہ جب ریاست اور اس کے آئینی ادارے موجود ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے تو لشکروں، غیر نمائندہ جرگوں یا دیگر غیر آئینی ذرائع کے ذریعے عوام کے خلاف کارروائیوں یا آپریشنوں کا جواز پیدا کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا یہ موقف تاریخی حقائق، آئینی تقاضوں اور زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے، جبکہ اس مو¿قف کی پاداش میں انہیں نوٹس دینا اور عدالتوں میں طلب کرنا سیاسی انتقام، اظہار رائے کی آزادی پر قدغن اور جمہوری روایات کے منافی اقدام ہے۔ ملاقات میں سانحہ زیارت، سانحہ ہنہ اوڑک، کھڈ کوچہ، منگوچر اور مستونگ میں پیش آنے والے اندوہناک واقعات، 17 جولائی کو مسلم باغ کے عوام کے ساتھ پیش آنے والے سانحے، منگوچر کے مقام پر ژوب کے حاجی پائندہ خان کے خاندان کی دو خواتین کی بہیمانہ شہادت، السیف کوچ پر فائرنگ کے نتیجے میں چار بے گناہ شہریوں کی شہادت، 23 جولائی کو سیشن جج شہید عبدالحکیم کاکڑ کی ٹارگٹ کلنگ، اور صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی، قتل و غارت، اغواءبرائے تاوان، شاہراہوں پر مسلح جتھوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور ریاستی رٹ کی مسلسل کمزوری پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رہنماﺅں نے کہا کہ تمام صوبے بالخصوص پشتون علاقوں میں عوام اپنی جان، مال اور عزت کے تحفظ کے حوالے سے شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ مختلف علاقوں میں مسلح گروہوں کی موجودگی، شاہراہوں پر مسافروں کی شناخت کی بنیاد پر قتل، سرکاری اہلکاروں، ججوں اور عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اپنی بنیادی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، جس کے باعث عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مسلسل مجروح ہو رہا ہے۔ دونوں جماعتوں نے سانحہ زیارت کے شہداءکے لواحقین اور آل پارٹیز کانفرنس کے متفقہ مطالبات پر عملدرآمد میں حکومتی تاخیر پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ رہنماﺅں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بااختیار اور آزاد جوڈیشل کمیشن کے فوری قیام، مسلح جتھوں سے تمام متاثرہ علاقوں کو مکمل طور پر پاک کرنے، لیویز فورس کی فوری بحالی، ایف سی کی عوام دشمن کارروائیوں کے خاتمے، ان کیمرہ بریفنگ کے انعقاد، سیاسی جماعتوں اور شہداءکے لواحقین کو اعتماد میں لینے، ریونیو کمیٹی کی تشکیل اور اس کے اجلاس کے انعقاد سمیت کیے گئے وعدوں پر آج تک کوئی موثر پیش رفت نہیں ہوئی، جو انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ ملاقات میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سانحہ زیارت، سانحہ ہنہ اوڑک، کھڈ کوچہ، منگوچر، مستونگ، مسلم باغ، السیف کوچ اور دیگر دہشت گردی کے تمام واقعات کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر ایک آزاد، بااختیار اور غیرجانبدار جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے، شہداءکے لواحقین سے کیے گئے تمام وعدوں پر بلا تاخیر عملدرآمد کیا جائے، ان کیمرہ بریفنگ میں تمام سیاسی جماعتوں اور متاثرہ خاندانوں کو اعتماد میں لیا جائے، ریونیو کمیٹی کا فوری اجلاس طلب کیا جائے، لیویز فورس کو مکمل اختیارات کے ساتھ بحال کیا جائے، ایف سی کی جانب سے عوام کے ساتھ ناروا سلوک اور عوام دشمن کارروائیوں کا خاتمہ کیا جائے، اور صوبے بھر میں سرگرم تمام مسلح جتھوں کے خلاف بلاامتیاز اور موثر کارروائی کرکے ریاست کی رٹ بحال کی جائے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ دونوں رہنماﺅں نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ موجودہ غیر معمولی حالات میں تمام جمہوری، وطن دوست اور سیاسی جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے پلیٹ فارم کو مزید موثر اور فعال بنانے، تمام سیاسی قوتوں کے درمیان مشاورت کو فروغ دینے اور صوبے میں امن، آئین کی بالادستی، جمہوری حقوق کے تحفظ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر عملدرآمد کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں جماعتوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں پائیدار امن طاقت کے یکطرفہ استعمال سے نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عوام کے جان و مال کے تحفظ، سیاسی مکالمے، جمہوری عمل کے استحکام اور تمام جمہوری و قومی سیاسی قوتوں کی مشترکہ جدوجہد سے ہی ممکن ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے دونوں جماعتیں باہمی رابطوں، مشترکہ سیاسی اقدامات اور عوامی جدوجہد کو مزید مضبوط اور منظم انداز میں آگے بڑھائیں گی۔