خضدار، باغبانہ میں مسلح افراد کی ناکہ لگا کر مسافروں سے لوٹ مار، پولیس گاڑیوں سے بھتہ گیری میں مصروف

خضدار (ویب ڈیسک) خضدار کے علاقے باغبانہ میں دن دہاڑے مرکزی شاہراہ پر مسلح ڈکیتی، مسافروں سے نقدی، سونا اور موبائل فون لوٹ لیے گئے جبکہ باغبانہ پولیس کی توجہ مبینہ طور پر آمدنی کے معاملات پر مرکوز ہونے کی بناءکرائم میں اضافہ ہونے لگا۔ خضدار کی تحصیل باغبانہ کے سمبان علاقے میں گزشتہ روز تقریبا شام 4 بجے کلاشنکوف بردار مسلح ڈاکوﺅں نے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ناکہ لگا کر دن دہاڑے بڑی ڈکیتی کی واردات کی۔ ذرائع کے مطابق ڈاکوﺅں نے شاہراہ پر آنے والی تمام چھوٹی، بڑی اور مسافر گاڑیوں کو ایک ایک کرکے روکا، مسافروں کی مکمل تلاشی لی اور بڑے اطمینان سے ان سے نقد رقم، موبائل فون اور دیگر قیمتی اشیاءلوٹ لیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مسافر کے بیگ میں موجود تقریباً چار سے پانچ تولہ سونا بھی ڈاکو اپنے ساتھ لے گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق لوٹی گئی مجموعی رقم کروڑوں روپے تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ جائے وقوعہ سے تقریبا ایک کلومیٹر کے فاصلے پر مرکزی شاہراہ پر زاوہ پولیس چوکی بھی موجود ہے، تاہم متاثرین کے مطابق واردات کے دوران نہ چوکی سے پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور نہ ہی تھانے کی جانب سے کوئی گشت کیا گیا، جس کے باعث ڈاکو تقریبا ایک گھنٹے تک بلاخوف کارروائی کرتے رہے۔ باغبانہ کے علاقے میں اس نوعیت کی ڈکیتیاں مسلسل ہو رہی ہیں لیکن ان کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے جارہے۔ بعض مقامی ذرائع نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مذکورہ پولیس چوکی اور تھانے کی توجہ امن و امان کے بجائے دیگر معاملات پر مرکوز رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند روز قبل منشیات کے مبینہ لین دین سے متعلق ایک وڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی، تاہم اس معاملے پر بھی کسی قسم کی کارروائی سامنے نہیں آئی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جاتی تو علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوسکتی تھی۔ عوامی حلقوں نے آئی جی بلوچستان سے فوری طور پر نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔