استعمال شدہ سرنجیں لگانے سے 200 سے زائد بچے ایچ آئی وی کا شکار، سندھ ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کرلی

کراچی (ویب ڈیسک) آلودہ اور استعمال شدہ سرنجیں لگانے سے 200 سے زائد معصوم بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوگئے۔ کراچی کے کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ انتظامی غفلت سیکڑوں خاندانوں کے لیے ہمیشہ کی اذیت بن گئی۔ کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طور پر آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے باعث درجنوں ماﺅں کے بچوں کو ایڈز جیسے موذی مرض میں مبتلا کردیا ہے۔ اس مجرمانہ غفلت سے متاثرہ خاندان انصاف کی امید لے کر سندھ ہائی کورٹ پہنچے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل طارق منصور ایڈووکیٹ کے مطابق کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طور پر آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے نتیجے میں 200 سے زائد بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے ہیں۔ سندھ حکومت کے ادارے سیسی کے زیر انتظام چلنے والے اس اسپتال میں روزانہ ہزاروں مریض علاج کے لیے آتے ہیں، جہاں محفوظ اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا انتظامیہ کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق ایچ آئی وی کے پھیلاﺅ کی سنگین اطلاعات سامنے آنے کے باوجود آج تک ذمہ دار افراد کے خلاف کوئی موثر انکوائری یا کارروائی نہیں کی گئی۔ دوران سماعت سندھ ہائی کورٹ نے سیکرٹری صحت سندھ اور آئی جی سندھ کو آئندہ سماعت سے قبل جامع رپورٹ عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے معاملے کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔ سندھ میں اب تک استعمال شدہ سرنجوں سے ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے۔