خیبر پختونخوا میں شدید بارش، آسمانی بجلی گرنے سے 2 بچے جاں بحق، مدرسے کی 22 طالبات سمیت 25 افراد زخمی

پشاور (ویب ڈیسک) پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خیبر پختونخوا میں گزشتہ رات ہونے والی شدید بارش، آسمانی بجلی اور فلیش فلڈ کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق ضلع خیبر کے علاقے باڑہ زکا خیل میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 بچے جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے جبکہ دیر بالا میں مدرسے پر آسمانی بجلی گرنے سے 22 طالبات زخمی ہوگئیں۔ رپورٹ کے مطابق لوئر چترال میں موسلادھار بارش اور کلاﺅڈ برسٹ کے نتیجے میں فلیش فلڈ آیا، جس سے 27 مکانات متاثر ہوئے جب کہ سیلابی ریلے کے باعث 2 مساجد، 2 دکانیں اور ایک پل کو بھی نقصان پہنچا۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق فلیش فلڈ سے 4 گاڑیاں اور متعدد موٹر سائیکلیں بھی متاثر ہوئیں جب کہ مجموعی نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ ادھر اپر چترال کے علاقے یارخون، مستوج میں بھی فلیش فلڈ سے ایک مکان، آبنوشی کی متعدد اسکیمیں اور نہریں متاثر ہوئیں تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی جب کہ متاثرہ خاندانوں کو امدادی سامان فراہم کر دیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق لوئر چترال میں فلیش فلڈ کے باعث بند ہونے والی 2 رابطہ سڑکیں ٹریفک کے لیے بحال کر دی گئی ہیں۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ علاوہ ازیں خیبرپختونخوا کے ضلع دیر بالا میں مدرسے پر آسمانی بجلی گرنے سے 22 طالبات زخمی ہوگئیں۔ واقعے کے بعد مقامی افراد نے امدادی کارروائیاں شروع کردیں جب کہ دور افتادہ علاقہ ہونے کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بدھ کو دیر بالا کے علاقے اوصوڑئی درہ کے گاﺅں رانگوں میں خواتین کے ایک مدرسے پر آسمانی بجلی گرنے سے افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 22 طالبات زخمی ہوگئیں۔ واقعے کے وقت مدرسے میں تقریباً 260 طالبات موجود تھیں جب کہ آسمانی بجلی گرنے کے فوراً بعد علاقے کے مقامی افراد نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ زخمی طالبات کو فوری طور پر علاج کے لیے ٹی ایچ کیو اسپتال واڑی منتقل کر دیا گیا، جہاں اسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر ان کا علاج شروع کر دیا۔ دور افتادہ علاقہ ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب کہ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد واڑی اسپتال پہنچ گئی۔