خضدار (ویب ڈیسک) خضدار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سردار اختر جان مینگل کی پارٹی کے دیگر مرکزی رہنماﺅں، مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ، مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ملک نصیر احمد شاہوانی، فنانس سیکرٹری اختر حسین لانگو، پبلیکیشن سیکرٹری ڈاکٹر عبدالقدوس کرد، پروفیشنل سیکرٹری موسیٰ جان بلوچ، انسانی حقوق کے سیکرٹری احمد نواز بلوچ، سابق ایم پی اے انجینئر محمد اکبر مینگل، مرکزی خواتین سیکرٹری شکیلہ نوید دہوار، ایگزیکٹو ممبر لعل جان بلوچ، عبدالرﺅف، رشیدہ بلوچ، حاجی عبدالباسط لہڑی، صمد بلوچ، حاجی عبدالوحید لہڑی چیئرمین عبدالواحد بلوچ شکیل بلوچ، شفیق الرحمن ساسولی، عبدالوحید بلوچ، میر منیر احمد ساسولی، سفر خان مینگل، غلام نبی ایڈووکیٹ، ڈاکٹر محمد بخش، علی احمد شاہوانی کے ہمراہ بلدیہ ریسٹ ہاﺅس خضدار میں پرہجوم پریس کانفرنس۔ پریس کانفرنس سے پارٹی کے مرکزی قائد سردار اختر جان مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقہ زہری کا جو واقعہ 2 جون کو پیش آیا ہے وہ نہ کہ افسوسناک ہے بلکہ ہمارے سیاسی اور قبائلی روایات کے منافی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ کل ہماری پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس ہوا اس پر غور و خوض ہوا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ ہے یا آخری واقعہ ہے۔ اس سے پہلے بھی بی این پی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ہے وہ جنرل مشرف کا دور آمریت ہو یا ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے گماشتوں کا جمہوری دور ہو یا شریفوں کی بدمعاشی کا دور ہو۔ بلوچستان نیشنل پارٹی پر ہر ایک نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ 2 جون سے قبل مرکزی کابینہ کے ارکان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، ہمارے سینٹرل کمیٹی کے ارکان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، نوشکی میں ہمارے سینٹرل کمیٹی کے ممبران کے گھروں کو مسمار کیا گیا، خضدار میں ہمارے پارٹی کے سابق ایم این اے میر عبدالرﺅف مینگل کے گھر پر چھاپے مارے گئے، اب یہ 2 جون کا واقعہ اس کی مثال کہیں نہیں ملے گی۔ سردار نصیر احمد موسیانی اپنے قوم کے سردار ہیں اور اس کے ساتھ ان کا ایک سیاسی قد آور شخصیت ہیں بی این پی سے ان کی وابستگی آج کی نہیں کئی دہائیوں سے وابستگی رہی ہے۔ جس انداز میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا، چادر و چار دیواری کو پامال کیا، اس شریف النفس انسان کے گھر پر پہنچ کر جب ان کو بلایا جاتا ہے وہ نہیں آتا، جب گھر سے نکل کر بات چیت کرنے کے لیے تمام ریاستی اداروں کے جو اہلکار ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں، ان کو زدوکوب کیا جاتا ہے، ان کو بندوق کے بٹ سے ان پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ان کا نوجوان بیٹا جو بلوچستان نیشنل پارٹی کا ضلعی نائب صدر سردار زادہ خلیل احمد موسیانی کو والد کے سامنے گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کے بعد انہیں زخمی حالت میں سردار نصیر احمد موسیانی کو گاڑیوں میں ڈال کر اپنے کیمپ لایا جاتا ہے اور وہاں پر ان پر ٹارچر کیا جاتا ہے، طبی سہولتیں مہیا نہ کرنے کی صورت میں اور سردارزادہ خلیل موسیانی پر ٹارچر کیا جاتا ہے اور ان کو ایک اور گولی ماری جاتی ہے جس سے ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح سردار نصیر احمد موسیانی کے فرزندان اور خاندان کے دیگر لوگ سردارزادہ زہری خان موسیانی، ثناءاللہ موسیانی، ارشاد احمد، امید علی، دوست محمد، سلیم، شکر خان اور اسامہ کو گرفتار کرکے اپنے کیمپ میں لے جاتے ہیں۔ دو لوگ جو کہ گھر کے ملازم ہیں کل ان کو چھوڑ دیا ان میں سے ایک معذور ہے جو نہ بول سکتا ہے اور نہ سن سکتا ہے۔ اس اندھی اور بہری جمہوریت میں ایک معذور کو بھی نہیں بخشا۔ بغیر کسی کیس کے ان کو تحویل میں رکھا ہے ہمیں خدشہ ہے کہ ان کی جان کو بھی ضائع نہ کیا جائے۔ ایک تو سردار نصیر احمد موسیانی کو بڑی مشکل سے چھوڑ دیا، ان کے علم میں بھی یہ بات نہیں لائی گئی کہ ان کے بیٹے کی موت واقع ہو گئی ہے اور جنازے میں بڑی مشکل سے چھوڑا اور کہا گیا کہ سردار نصیر احمد موسیانی خود ان کے بیٹے کی لاش آکر لے جائیں۔ کہتے ہیں بلوچستان میں امن و امان ہے اور بلوچستان میں امن یہی ہے کہ ایک بیٹے کو ان کے والد کے سامنے شہید کر دیا گیا، والد اور بھائیوں کو جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی، جو گرفتار ہیں ان کو جعلی کیس کیا جا سکتا ہے یا بوگس مقدمات میں ان کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ اپنی غلطی پر پشیمانی کے بجائے ایک غلطی سے دوسری غلطی کی جاتی ہے۔ 2005 میں ڈیرہ بگٹی میں ڈاکٹر شازیہ کا جو واقعہ ہوا تھا ریپ کا کیپٹن حماد کے ہاتھوں، ایک مجرم کو بچانے کے لیے کتنی آگ لگائی گئی ہے وہ آگ آج تک نہیں بجھ پا رہی۔ کتنی ماﺅں کی گودیں اجاڑی ہیں، کتنی عورتوں کے سہاگ اجاڑے ہیں، کتنے نوجوانوں کا سایہ بزرگوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ کئی دنوں سے اعلانات کیا جا رہا ہے کہ بلبل شہر ہے وہاں لوگ دوسری جگہ منتقل ہوں جس میں ایک گھر نہیں ہے، ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہیں، گھر ہیں، کھیت ہیں، باغات ہیں اور لوگوں کے کاروبار ہیں۔ ان کو کہا جا رہا ہے کہ آپ علاقہ چھوڑ کر جائیں۔ نقل مکانی پر انہیں مجبور کیا جا رہا ہے۔ جو مسلح گروپس ہیں ان کے ساتھ یہ لڑ نہیں پا رہے، بے گناہ لوگوں کو مارا جا رہا ہے۔ جن لوگوں کو آپ شفٹ کر رہے ہیں ان کو آپ کہاں لے جائیں گے، آپ کے پاس کوئی جگہ یا اس کا حل ہے؟ اس ڈسٹرکٹ کا جو بڑا سٹی ہے وہ خضدار ہے، یہاں لوگوں کو پینے کا پانی اور بجلی میسر نہیں ہے۔ کیا سی ایم ہاﺅس اور گورنر ہاﺅس خالی کرکے لے جائیں گے؟ اتنے تجربات انہوں نے کیے ہیں کہ ان تجربات سے یہ سبق حاصل نہیں کررہے۔ آج مزاحمت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ یہ ان پر قابو نہیں پارہے ہیں۔ جتنی بھی دشمنی ہوجائے لیکن فوتگی پر وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں جب تعزیت پر بیٹھا جاتا ہے تو دوست بھی تعزیت کرتا ہے اور دشمن بھی تعزیت کرتا ہے۔ لیکن یہاں ہمیں تعزیت کرنے نہیں دیا جا رہا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں تعزیت کیلئے جاﺅں، انتظامیہ سے بھی میرے رابطے تھے کہ ہمیں کلیئرنس دی جائے۔ کل جب ہماری سینٹرل کمیٹی کا اجلاس ہوا کہ جب ہمارے ساتھی اکٹھے ہو گئے، آج صبح سات بجے ہمارا پروگرام تھا وڈھ سے نکلنے کا تو ہمیں کہا گیا کہ تھوڑی دیر رہیں، کچھ کلیئرنس مل جائے تو آپ جائیں۔ تو ہم نو بجے خضدار میں پہنچے تو ہمیں کہا گیا کہ حالات ٹھیک نہیں، آپ نہیں جاسکتے۔ ہمیں تعزیت کے لیے جانے نہیں دیا گیا۔ صوبائی حکومت کو میں کچھ نہیں سمجھتا ہوں، جتنی شورش ہے یہ اس کے ذمہ دار ریاست ہے۔ بلوچستان کا کوئی ایسا علاقہ نہیں ہے کہ جہاں امن ہو۔ لوگ اندھے اور بہرے نہیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر پابندی لگائی ہے اور سوشل میڈیا پر آپ پابندی نہیں لگا سکتے۔ کون سا علاقہ جہاں حکومت کی رٹ ہے؟ ریاست کی رٹ صرف چھاﺅنیوں اور سی ایم ہاﺅس اور ڈی سیز کے باﺅنڈری وال میں رٹ ہے۔ گزشتہ روز بھی ہمارے ساتھی گئے تھے، ان کو کلیئرنس ملنے کے باوجود بھی ان پر فائرنگ کی گئی۔ دوسرا واقعہ جو زہری میں ہوا وہ عمیر سمالانی جو اپنی فیملی کے ساتھ زہری سے آ رہا تھا، اس کی سسٹر کا بیان بھی پڑھا کہ ان کو اتنا بڑا زخم بھی نہیں ہوا تھا لیکن ان کو علاج کا موقع نہیں ملا اور اپنی بہن کی گود میں وہ جان دے دی۔ کیا سردارزادہ خلیل احمد موسیانی کو وہ خضدار سی ایم ایچ میں علاج کے لیے نہیں لا سکتے تھے؟ اس سلسلے میں ہماری سینٹرل کمیٹی نے فیصلہ کر لیا ہے کہ 10 جون کو پورے بلوچستان میں شٹر ڈاﺅن ہڑتال ہوگی۔ اس سلسلے میں ہم تمام سیاسی جماعتوں اور تاجر برادری و دیگر طبقات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ہڑتال میں ہمارے ساتھ دیں۔
یہ کیسا امن ہے، باپ کے سامنے بیٹے کو شہید کردیا گیا، ہمیں تعزیت کیلئے بھی نہیں چھوڑا گیا، زہری واقعے کیخلاف 10 جون کو بلوچستان میں شٹر ڈاﺅن ہوگا، سردار اختر مینگل
