بلوچستان میں ماورائے عدالت وآئین گمشدگیاں حکومت و اداروں کی نااہلی ہے، مولانا ہدایت الرحمن

کوئٹہ (آن لائن) امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کاسب سے بڑامسئلہ زندہ انسانوں کاماورائے عدالت وآئین غائب ہونا ہے۔ نوجوان لڑکے، لڑکیاں غائب ہونالمحہ فکر، حکومت واداروں کی ناکامی ہے۔ کسی ماں سے اس کا بیٹا چھین لیا جائے، کسی باپ کے بڑھاپے کا سہارا غائب کر دیا جائے تو اس گھر کی ہر دیوار ماتم کرتی ہے۔ وہ ماں ہر دروازے پر اپنے بچے کی تصویر لے کر کھڑی رہتی ہے، وہ باپ ہر آہٹ پر چونک جاتا ہے کہ شاید میرا بیٹا واپس آگیا ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں میڈیا اور وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف لاپتا افراد نہیں، یہ سینکڑوں گھروں کی ادھوری زندگیاں اور خاموش چیخیں ہیں۔ خدارا اِن خاندانوں پر رحم کیا جائے، ان کے پیاروں کو واپس لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست ماں باپ کے آنسوﺅں کی قدر کرے، لاپتا افراد کو بازیاب اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دیا جائے۔ میں حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ خدارا لاپتا افراد کے مسئلے پر رحم کریں۔ قبل ازیں مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے بولان میڈیکل کالج میں لاپتا ڈاکٹر خدیجہ کے اہل خانہ سے دھرنے میں اظہاریکجہتی کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی ایم سی سے لاپتہ ہونے والی ڈاکٹر خدیجہ کے اہلِ خانہ کے درد میں ہم برابر کے شریک ہیں، مولاناہدایت الرحمن نے یقین دہانی کرائی کہ انصاف کی اس جدوجہد میں جماعت اسلامی ہر قسم کا تعاون اور آواز بلند کرے گی۔