خوشحال کاکڑ کی نشست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ عوامی مینڈیٹ کی فتح ہے پشتونخوا نیپ

کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے251 ژوب، شیرانی کم قلعہ سیف اللہ سے پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ کی کامیابی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کو ایک تاریخی اور انصاف پر مبنی فیصلہ قرار دیتے ہوئے معزز جج صاحبان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اہم اور تاریخی فیصلے میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے برحق مؤقف پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی گئی ہے، جو نہ صرف جمہوری اقدار کی بالادستی کا مظہر ہے بلکہ انتخابی شفافیت کے اصولوں کو بھی تقویت دیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا ہے کہ فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد اور عوامی مینڈیٹ کا حقیقی اور مستند پیمانہ ہے اور اسی بنیاد پر ہی انتخابی نتائج کی درست عکاسی ممکن ہے۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ معزز عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں یہ بات بخوبی واضح کی ہے کہ دستیاب اور مستند ریکارڈ کے مطابق فارم 45 میں خوشحال خان کاکڑ کو اپنے مدمقابل امیدوار پر واضح برتری حاصل تھی۔ حتیٰ کہ الیکشن کمیشن کے پاس موجود فارم 45 کے ریکارڈ سے بھی ان کی کامیابی اور برتری ثابت ہوتی ہے، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ بیان کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 کے قواعد (خصوصاً رول 81، رول 84 اور سیکشن 92) کی روشنی میں انتخابی عمل کے مکمل طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا کہ ہر پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ پہلے فارم 45 پر مرتب کیا جاتا ہے، جس کے بعد ریٹرننگ آفیسر انہی نتائج کی بنیاد پر عبوری نتیجہ فارم 47 میں مرتب کرتا ہے، اور آخرکار حتمی نتیجہ فارم 48 کی صورت میں جاری کیا جاتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے معزز بینچ نے اس امر کی نشاندہی کی کہ حلقہ این اے 251 کے ریٹرننگ آفیسر نے قانونی تقاضوں اور قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے فارم 48 میں حتمی نتیجہ فارم 45 کے مطابق مرتب نہیں کیا، بلکہ بد دیانتی اور بد نیتی کے ساتھ دانستہ طور پر خوشحال خان کاکڑ کے ووٹ مخالف امیدوار کے کھاتے میں شامل کیے گئے، جو ایک سنگین بے ضابطگی اور مجرمانہ طرزِ عمل ہے۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ معزز عدالت نے اس پورے معاملے میں تمام شواہد اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ریٹرننگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کے بد نما کردار کو بے نقاب کیا اور اس حقیقت کو واضح کیا کہ انتخابی نتائج میں رد و بدل کیا گیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف ایک فرد کے حق میں انصاف کی فراہمی ہے بلکہ ملک میں انتخابی شفافیت کے لیے ایک اہم نظیر بھی قائم کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پارٹی کے وکلاء نے مقدمے کے ہر مرحلے پر، چاہے وہ الیکشن کمیشن ہو یا الیکشن ٹریبونل، مسلسل فارم 45 کی بنیاد پر خوشحال خان کاکڑ کی برتری کے ٹھوس شواہد پیش کیے۔ یہاں تک کہ متعلقہ فورمز نے بھی مختلف مواقع پر اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ خوشحال خان کاکڑ کو ووٹوں کی برتری حاصل ہے، مگر اس کے باوجود ان کی کامیابی کا اعلان نہ کرنا ایک افسوسناک امر تھا، جو انصاف کے تقاضوں کے منافی تھا۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اس تاریخی فیصلے کو جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ مستقبل میں انتخابی عمل کو شفاف بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ پارٹی نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں ملوث عناصر، بالخصوص متعلقہ ریٹرننگ آفیسر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جاسکے۔ بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہر سطح پر جمہوری اقدار، آئینی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی صورت میں عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔