تربت (بلوچستان نیوز) نیشنل پارٹی مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور مرکزی رہنما و سینیٹر جان محمد بلیدی نے کارکنان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کے وسائل کی جدوجہد میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ بلوچستان میں لگی آگ اور بد امنی کا حل مذاکرات اور مفاہمتی پالیسی میں ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ بے روح پارلیمنٹ ہے جہاں پارلیمینٹیرین کی کوئی نہیں سنتا۔ نیشنل پارٹی اور دیگر قوم پرست جماعتوں کے مینڈیٹ پر قبضہ کرکے بلوچستان میں لگی آگ پر تیل ڈالا گیا۔ اجلاس میں تحصیل کونسل تربت اور تحصیل کونسل شہرک کے تنظیمی مسائل و مشکلات اور دیگر سیاسی امور پر تفصیلی بحث ہوئی۔ مرکزی صدر سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں وفاق اور وفاقی اداروں کا رویہ نامناسب ہے، بلوچستان کو کالونی کی طرح دیکھنے سے مسائل مزید پیچیدہ ہورہے ہیں۔ عوام کے ووٹ کے تقدس کو پامال کیا گیا ہے، بلوچستان کے سیاسی و قوم پرست جماعتوں کے مینڈیٹ کو ریاست اور اس کے ادارے تسلیم کرنے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے قومی محرومی میں بے انتہا اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انتخابی عمل میں مداخلت کی وجہ سے عوام کا اعتماد جمہوریت اور اس کے اداروں سے اٹھتا جارہا ہے۔ نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما اور سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہاکہ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت نہیں ہوسکتا، ریاست اور اس کے جمہوری و آئینی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ عوام میں جمہوریت پر اعتماد کو بڑھانے کے لیے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مفاہمتی پالیسی اپناتے ہوئے مذاکراتی اور گفت و شنید کے عمل کو شروع کیا جائے، اس کیلئے بلوچستان کی قومی و سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی بلوچستان کے عوام کی قومی جماعت ہے، نیشنل پارٹی بلوچستان کے سیاسی کارکنوں کا سیاسی مورچہ ہے، بلوچستان میں حکومت بلوچستان کے عوام کی نہیں، نیشنل پارٹی کے کارکن اپنے عوام سے جڑیں مضبوط اور پارٹی کو فعال و متحرک کریں۔ اجلاس سے ریٹائرڈ جسٹس شکیل احمد بلوچ، ضلعی صدر یونس جاوید، میئر تربت بلخ شیر قاضی، صدر تحصیل طارق بابل، تحصیل نائب صدر طارق بابل اور بہرام موسیٰ نے بھی خطاب کیا۔
