غز ہ میں ابھی اسرائیلوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کا قتل عام جاری تھا کہ اچانک پاک بھارت جنگ شروع ہوئی اور چند دنوں میں بھارت کی بدترین شکست پر ختم ہو گئی۔ بھارت کی شکست کا اعلان ٹرمپ نے کیا کیوں کہ پاکستان میں یوتھیوں کی اکثریت علیمہ خان کے بیان کے مطابق اسے ”نورا کشتی“ سے تعبیر کر رہی تھی۔ بھارت ابھی اپنے زخم چاٹ رہا تھا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے سائرن بج اٹھے اور بارہ روز تک جاری رہنے والے یہ جنگ کچھ دیر کیلئے تھمی لیکن جلد ہی امریکہ اسرائیل کی حمایت میں میدان میں اتر آیا۔ سخت جملوں اور بیانات کا سلسلہ جاری تھا کہ تحریک طالبان پاکستان جو اپنی پناہ گاہ افغانستان میں افغان طالبان کی گود میں بیٹھی تھی اُس نے یکلخت پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کو بڑھا دیا۔ افغان طالبان کو بار بار نرم اور سخت لہجے میں سمجھایا گیا لیکن وہی کتے کی دم والی بات اور پھر پہلے تحریک طالبان کے دہشت گردی کے وہ کیمپس جو افغانستان میں افغان طالبان کی زیر سرپرستی چل رہے تھے انہیں نابود کیا گیا اور ازاں بعد افغانستان میں گھس کر افغان طالبان کو بھی اُن کی اوقات افواج ِ پاکستان نے خوب یاد دلا دی۔ امید کی جاتی ہے کہ پاکستان کے بہادر بیٹے اب ”کٹا کٹی“ نکال کر ہی آئیں گے کہ ہم بوکے نکال نکال کر تھک چکے ہیں، سو اب کتا ہی نکالنے سے ہی مسئلہ حل ہو گا۔ افغان طالبان کی بہادری کے شو کو ابھی دنیا نے صرف دو راتوں کیلئے ہی دیکھا تھا کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔ جس کے نتیجہ میں 87 سالہ ایرانی سپریم کمانڈر علی حسین خامنہ ای شہادت پر فائز ہو گئے۔ ابتدائی رد عمل میں ایران نے خلیج میں امریکی اڈوں پر میزائلوں سے حملے کر دیئے۔ جو دم ِ تحریر جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں یہ جنگ کیا صورت ِ حال اختیار کرتی ہے یہ ایک نیا عالمی معروض ہو گا۔
سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ افغانستان اور ایران پر حملے کی بظاہر نظر آنے والی بڑی وجہ کیا تھی؟ افغان طالبان بھارت کی پراکسی بن کر تحریک طالبان جنہیں ریاست ِ پاکستان خوارج ڈکلیئر کر چکی ہے پاکستان کے اداروں اور فوجی جوانوں پر حملے کرا رہے تھے جس سے افواج پاکستان کے علاوہ دوسرے انتظامی اداروں کا نقصان بھی ہو رہا تھا اور ساکھ بھی متاثر ہو رہی تھی۔ قطر سے لے کر ترکی تک مذاکرات کیلئے منتخب ہوئے لیکن جب افغان طالبان کا رابطہ ہی نئی دہلی سے تھا تو پھر کیا اور کیسے مذاکرات۔۔۔ سو آخری حل ان کی چھترول تھی جو افواج پاکستان پر فرض ہو چکی تھی اور افواج پاکستان نے اپنے اس فریضے کو پوری ذمہ داری سے نبھایا۔ پاکستان کا مو¿قف صاف اور واضح ہے کہ جب تک افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان کی پشت پناہی سے مکمل ہاتھ نہیں اٹھاتے اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے باز نہیں آتے اُن کے خلاف آپریشن جاری رہے گا اور عام پاکستانی بھی یہی چاہتا ہے کہ یہ آپریشن مکمل صفائی تک جاری رہنا چاہیے۔ ایران میں سپریم لیڈر کی شہادت جہاں ایک بہت بڑا المیہ ہے اور اُس پر افسوس اور دکھ کرنے کیلئے شیعہ ہونا لازمی نہیں صرف با ضمیر انسان ہونا ہی بہت ہے۔ وہیں ہمیں یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ ایران کی سڑکوں پر رقص کرتے نوجوان کون ہیں جو علی حسینی خامنہ ای کی شہادت کا جشن منا رہے ہیں۔ یقینا یہ انہی لوگوں کے بچے یا نسل ہے جنہیں ایک زمانے میں روزانہ کی بنیاد پر صبح، دوپہر اور شام ڈیتھ سکواڈ کے آگے کھڑ ا کیا جاتا تھا۔ ایران کی انتہا پسندی سے کسی صورت انکار نہیں لیکن اگر ایران کو اِس انتہا پسند سوچ کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے تو انتہا پسندی کا سب سے بڑا ثبوت تو اس صدی میں اسرائیل نے دنیا کے سامنے اپنی بربریت کی صورت میں رکھا ہے۔ خود امریکہ کے اپنے ہاتھ ہزاروں نہیں لاکھوں انسانوں کے خون سے رنگے ہیں جو لیبیا سے لے کر عراق اور شام سے لے کر یمن تک درد کے انگنت افسانے لکھ رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے اتحاد میں اب بھارت کا نام بھی آنا شروع ہو چکا ہے اور ادھر پاکستان میں عمران نیازی کی سپاہ یہ پروپیگنڈا کر رہی ہے کہ ایران کے بعد پاکستان کی باری ہے۔ ان گدھوں کو نہ تو پاکستان کا جغرافیہ معلوم ہے اور نہ ہی پاکستان کی حقیقی طاقت۔ پاکستان پر حملہ کرنے کا سوچنے والے زمین پر آخری انسان ہوں گے کہ اُس کے بعد زمین پر انسان تو اُس صورت میں بچے گا کہ جب زمین اپنے مدار میں رہے گی۔ ابھی تک اسرائیل اور امریکہ کا سامنا جن اسلامی ممالک سے ہوا ہے اُن میں سے کسی کے پاس بھی نہ تو جدید ٹیکنالوجی تھی اور نہ ہی ایٹمی ہتھیار اور اُن ہتھیاروں کو لے جانے والے وار ہیڈز۔ عمران نیازی خود پاکستان کو سری لنکا دیکھنے کا خواہشمند تھا اور اب وہ سری لنکا بھی صرف نقشے پر ہی دیکھ سکتا ہے۔ وہ اوورسیز پاکستانیوں کو ڈالر پاکستان بھیجنے سے منع کرتا رہا ہے تاکہ پاکستان معاشی مشکلات کا شکار ہو لیکن پاکستانی پاکستان پر کسی مصلحت یا مصالحت کا شکار
نہیں ہوئے۔ عمران نیازی نے آئی ایم ایف کو خط لکھوایا کہ پاکستان کو مزید قرض نہ دیا جائے لیکن ہنستا مسکراتا پاکستان دیکھنا اُسے نصیب نہیں ہوا۔ سو پاکستان کے حوالے سے ایسا سوچنا بھی میں کفر سمجھتا ہوں کہ امریکہ یا اُس کی کوئی پراکسی پاکستان پر کھلا حملہ کر سکتی ہے۔ البتہ ایران کی موجودہ صورت حال نے مجھے پریشان کر دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران کے اقتدار کے محل کی غلام گردشوں میں طاقت کے حصول کیلئے زور آزمائی شروع ہو جائے گی۔ جو لوگ سڑکوں پر اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں انہیں اپنی تحریک کی کامیابی کا روشن امکان دکھائی اور سنائی دینا شروع ہو چکا ہو گا۔ ایران کی نئی حکومت یقینا اندرونی اور بیرونی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری ریاستی طاقت استعمال کرے گی۔ بلوچستان میں عالمی منڈیوں میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، پراکسی جنگوںکی نئی صف بندی، غیر محفوظ بارڈر اور پاک ایران تعلقات کی غیر یقینی صورت حال جو یقینا سعودیہ ایران کشیدگی کی وجہ سے متاثر ہوں گے، ہرمز کی خلیج میں تناﺅ اور کشیدگی میں اضافہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا جو پاکستان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دے گے۔ اس نئے معروض کیلئے پاکستان کو بھی نئی پالیسی بنانا پڑے گی تاکہ پاک ایران پائپ لائن منصوبوں جیسی فائلیں مزید تاخیر کا شکار نہ ہوں۔ گو کہ پاکستان نے اسرائیلی نمائند ے کی موجودگی میں ایران کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور اپنی حمایت کا یقین دلا دیا ہے لیکن اس کیلئے امریکہ کو فوری طور پر قطری، کھتری اور اسرائیلی سروں سے اپنی چھتری ہٹانا ہو گی تاکہ امن کا کوئی رستہ نکل سکے۔
کھتری، قطری: امریکی اور اسرائیلی چھتری
