تہران، واشنگٹن، تل ابیب،بلغراد،سٹاک ہوم(آئی این پی )تہران کے جوہری پروگرام پر جاری تعطل کے بعد امریکہ اور ایران تیزی سے ممکنہ فوجی تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں، جبکہ سفارتی حل کی امیدیں کمزور پڑتی جا رہی ہیں،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہاہے جوہری معاملے کا واحد حل سفارتی مذاکرات اور سفارتی حل تک پہنچنا ہے، لیکن اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو ایران اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کرنے کے لئے تیار ہے ،جبکہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ ،اتران اختلافات کے حل کیلئے سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا ہے کہ خلیجی ممالک اور اسرائیل، جو برسوں سے ایران کو اپنا بڑا خطرہ قرار دیتے آئے ہیں، اب سمجھتے ہیں کہ کسی تصفیے کے بجائے تصادم کا امکان کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے مشرقِ وسطی میں 2003 کی عراق جنگ کے بعد سب سے بڑی فوجی تعیناتیوں میں سے ایک کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اسرائیلی حکومت بھی امریکہ کے ساتھ ممکنہ مشترکہ کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، اگرچہ ابھی اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔یہ گزشتہ ایک سال کے اندر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوسری ممکنہ کارروائی ہو گی۔ اس سے قبل گزشتہ جون میں بھی ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات کو ہدف بنا کر مشترکہ فضائی حملے کیے گئے تھے۔خلیجی حکام کے مطابق تیل پیدا کرنے والے ممالک ممکنہ بگڑتی ہوئی صورتحال کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی محدود تصادم تیزی سے پھیل کر پورے خطے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ دو اسرائیلی حکام نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ انہیں حل ممکن نہیں رہا، اور فوجی کشیدگی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔سابق امریکی سفارتکار ایلن آئر کے مطابق دونوں ممالک اپنی اپنی ریڈ لائنز پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اس وقت کوئی پیش رفت ممکن دکھائی نہیں دیتی۔دو ادوار میں ہونے والے مذاکرات بھی یورینیم افزودگی، میزائل پروگرام اور پابندیوں میں نرمی جیسے بنیادی معاملات پر کھٹائی میں پڑ گئے ہیں۔ عمانی ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے امریکی تجاویز پر مبنی لفافے کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کھولنے سے بھی انکار کر دیا۔امریکی افسران کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی طاقت کے استعمال پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے محدود حملے کا امکان رکھتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے جلد کوئی معاہدہ نہ کیا تو بہت برے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے مشرقِ وسطی میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں اور سخت بیانات کے تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے کہا کہ ہم خطے میں بڑھتے ہوئے سخت بیانات، بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں، جنگی مشقوں اور بحری موجودگی میں اضافے پر بہت زیادہ فکر مند ہیں۔ ہم امریکہ اور ایران دونوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے اختلافات کے حل کے لیے سفارت کاری جاری رکھیں۔یہ اپیل اس خط کے بعد سامنے آئی ہے جو جمعرات کو ایران کے اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب، امیر سعید ایروانی، نے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ارسال کیا۔ایروانی نے اپنے خط میں زور دیا کہ ایران اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے بنیادی حقِ دفاع کے استعمال کے لیے تیار ہے، اور کسی بھی فوجی جارحیت کا ٹھوس اور متناسب جواب دیا جائے گا۔یرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران عالمی طاقتوں کے دبا کے سامنے نہیں جھکے گا۔مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہونے والی ایک تقریر میں کہا کہ عالمی طاقتیں ہمیں اپنا سر جھکانے پر مجبور کرنے کے لیے کمر بستہ ہیں۔۔ لیکن ان تمام مسائل کے باوجود جو وہ ہمیں پیدا کر رہے ہیں، ہم اپنا سر نہیں جھکائیں گے۔ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے، جو اب تک ایک بار مذاکرات کی ثالثی کرنے والے عمان کے دارالحکومت مسقط میں اور ایک بار جنیوا میں ملک کے قونصل خانے میں منعقد ہو چکے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران معاہدے میں شامل نہیں ہوا تو کچھ برا ہو گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔امریکا کا دوسرا بحری بیڑہ جیرالڈ آر فورڈ بحیرہ روم میں داخل ہو گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق خبر جیرالڈ آر فورڈ کو دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز کہا جاتا ہے، ٹرمپ نے دوسرا بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ میں تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا کا ایک بحری بیڑہ ابراہم لنکن پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں پہنچ چکا ہے۔گذشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف محدود حملوں پر غور کرنے کا کہا تھا اور ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 12 روز کی ڈیڈلائن دی تھی، جس کے بعد پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر طیاروں نے پوزیشن سنبھال لی ہے۔برطانوی خبر ایجنسی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی رہنماؤں کو براہِ راست نشانہ بنائیں گے۔ایران پر محدود حملوں کی خبروں پر برطانوی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوج ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے گی۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ سال آیت اللّٰہ خامنہ ای کو دھمکیاں دے چکے ہیں۔برطانوی خبر ایجنسی کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی رہنماں کو براہِ راست نشانہ بنائیں گے۔ایران پر محدود حملوں کی خبروں پر برطانوی خبر ایجنسی نے دعوی کیا ہے کہ امریکی فوج ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے گی۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ سال آیت اللہ خامنہ ای کو دھمکیاں دے چکے ہیں۔ امریکی اخبار نے سیٹیلائیٹ تصاویر کے ساتھ دعوی کیا ہے کہ اردن میں امریکی بیس پر درجنوں جنگی جہاز موجود ہیں۔ اخبار کے مطابق ایئر بیس پر کم از کم 60 اٹیک ایئر کرافٹ موجود ہیں۔
کشیدگی بڑھ گئی،ایران پر کسی بھی وقت امریکی حملہ کا امکان
