لاہور( بلوچستان نیوز)سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان کی تردید کی ہے کہ وہ عمران خان کی صحت پر سیاست کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بعض پی ٹی آئی رہنماں سے بھی کہا ہے کہ اگر وہ لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ پر ہو جائیں۔خصوصی انٹرویو میں علیمہ خان اپنے قید بھائی کی صحت کے لیے بظاہر بہت فکرمند دکھائی دے رہی تھیں۔ انہوں نے کہا: میرے بھائی کی آنکھ سیاست نہیں ہے لیکن اس کی نظر اور صحت ہے۔ ان کے خاندان کی ترجیح ان کی صحت ہے۔ علاج ملنا ہر قیدی کا حق ہے۔ ایک اور سوال کہ بعض پی ٹی آئی رہنما آپ کے کچھ بیانات سے نالاں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں آپ سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں تو علیمہ خان نے کہا مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان جیل میں ہیں اور ہم ان کے پیغام رساں ہیں۔ علی امین گنڈاپور کے استعفی دینے کا پیغام عمران خان نے ہمارے ہاتھ نہیں بھیجا تھا بلکہ جیل میں میڈیا کو کہا تھا۔سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کا گذشتہ دنوں ایک ویڈیو انٹرویو وائرل ہوا جس میں وہ شکایت کرتے ہیں کہ عمران خان کو ان کے بارے میں گمراہ کیا گیا اور اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ علیمہ خان کو عمران خان سے ملنے نہ دیتے۔علیمہ خان نے مزید کہا کہ جو وہ عمران خان کو نہیں کہہ سکتے وہ ان کی فیملی کو کہہ دیتے ہیں۔ چونکہ وہ ان ہی کے بدولت بیٹھے ہوئے ہیں تو انہیں کچھ کہہ نہیں سکتے، جب یہ ہمیں کہتے ہیں تو اصل میں انہیں غصہ عمران خان پر ہے۔ بولنے والوں کو اگر ان کی صحت کی فکر ہوتی تو ان کی شکلوں پر نظر آ جاتی۔ اگر یہ محسن نقوی کی زبان بولیں گے تو ہمیں فرق نہیں پڑتا، اگر یہ نہیں لڑنا چاہتے تو سائیڈ پر ہو جائیں۔ان سے دریافت کیا گیا کہ جب بیرسٹر گوہر کو جیل حکام نے بلایا کہ آپ ڈاکٹر کے ساتھ جائیں تو آپ نے انہیں جانے سے روکا، کیا یہ درست ہے؟ جواب میں علیمہ خان نے کہا کہ یہ محسن نقوی نے کہا ہوگا۔ یہ سارے جھوٹے ہیں، ہمیں یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ کوئی جیل میں جا رہا ہے، ہمیں یہی تو جھٹکا ملا ہے۔ادھر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ عمران خان اپنے علاج سے مطمئن ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان پر مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں۔عمران خان کو ڈیل کی آفر سے متعلق سوال پر علیمہ خان نے جواب دیا ہم سے آج تک کسی نے بات نہیں کی، صرف ایک کا مجھے معلوم ہے جب چار اگست کو کہا تھا کہ آپ کو سیف ایگزٹ دیتے ہیں آپ ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔ جس پر عمران خان نے کہا مجھ پر بنائے گئے سارے کیسز جھوٹے ہیں اور میں ان کا سامنا کروں گا۔تاہم فیصل واوڈا کہہ چکے ہیں ہے کہ عمران خان کو دو دفعہ ڈیل آفر کی گئی اور وہ نہیں مانے یہ وہ ڈیل ہے سابق وزیر اعظم کی بہن نے تقریبا دو ماہ قبل انڈپینڈنٹ اردو سے انٹرویو میں بتایا تھا کہ عمران خان بالکل ٹھیک ہیں۔ اب ایک دم ایسا کیا ہوا کہ ان کی 85 فیصد آنکھ متاثر ہوئی ہے؟ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان سے ان کی آخری ملاقات گذشتہ برس 16 اکتوبر کو ہوئی تھی، کیونکہ اسی دن توشہ خانہ ٹو کیس بند ہوا تھا۔ البتہ وہ عمران خان سے ایک ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ عمران خان خود کہتے تھے کہ اس کے بعد تین مہینے تک ان کی نظر بالکل ٹھیک تھی۔ اگست میں ایک ملاقات کے دوران ہم نے دیکھا کہ ان کی آنکھ تھوڑی سی لال تھی، ہم نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں ہوا۔ اس کے باوجود ہم نے عدالت میں درخواست دائر کر دی کہ عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔علیمہ خان کہتی ہیں اگلی ملاقات میں انہوں نے عمران خان سے ان کی آنکھ سے متعلق سوال پر بتایا کہ وہ اب ٹھیک ہے، آنکھوں میں ڈراپس ڈالے تھے اور میری آنکھ کا نمبر تبدیل ہوا ہے۔
