کوئٹہ(ویب ڈیسک) صوبائی دارالحکومت اور ملحقہ علاقوں میں منشیات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کے دوران کسٹمز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اربوں روپے مالیت کی منشیات برآمد کر لیں، مختلف مقامات پر کی گئی ان کارروائیوں کو منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق کسٹمز موبائل اسکواڈ نے قلعہ عبداللہ میں چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے 110 کلوگرام سے زائد منشیات ضبط کیں، جن میں 18 کلو کرسٹل آئس اور 92 کلو ہیروئن شامل ہیں۔ اس حوالے سے مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ایک اور مشترکہ کارروائی کسٹمز، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کی، جس میں فیلڈ انفورسمنٹ یونٹ نے 4.37 ارب روپے مالیت کی منشیات برآمد کیں۔ اس کارروائی کے دوران 69 کلوگرام سے زائد کرسٹل آئس اور 345 کلوگرام خام مال بھی قبضے میں لیا گیا۔حکام کے مطابق دو مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 10 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات پکڑی گئیں۔ تمام مقدمات کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینسز ایکٹ کے تحت درج کر کے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے نیٹ ورک تک پہنچنے کے لیے مزید چھاپے متوقع ہیں۔دریں اثناء گوادرمیں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 1.2 ٹن اعلیٰ کوالٹی چرس برآمد کر کے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ترجمان اے این ایف کے مطابق کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔اطلاع ملی تھی کہ اسحاق بلوچ نامی منشیات اسمگلر کی سرپرستی میں سرگرم بین الاقوامی گروہ بڑی مقدار میں منشیات پنجگور سے تربت منتقل کرنے والا ہے، جسے بعد ازاں مختلف ذرائع سے ساحل سمندر تک پہنچا کر سمندری راستے سے بیرون ملک اسمگل کیا جانا تھا۔اے این ایف نے پنجگور–تربت قومی شاہراہ (ایم 8) پر مشتبہ ٹرک کو روک کر تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران ٹرک کے خفیہ خانوں سے 1200 کلوگرام (1.2 ٹن) چرس برآمد کر لی گئی جبکہ ٹرک میں سوار دو ملزمان کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔حکام کے مطابق برآمد شدہ منشیات کی عالمی منڈی میں مالیت تقریباً 66.15 ملین امریکی ڈالر ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ منشیات افغانستان سے پاکستان اسمگل کی گئی تھی، جسے بعد ازاں گوادر اور پسنی کے ساحلی علاقوں سے تیز رفتار ماہی گیر کشتیوں کے ذریعے خلیجی ممالک، یمن اور تنزانیہ منتقل کیا جانا تھا۔اے این ایف کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ گروہ کے سرغنہ اسحاق بلوچ اور دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
قلعہ عبداللہ اور پنجگور سے اربوں روپے کی منشیات برآمد
