ڈاکٹر عائشہ فیض پر دہشتگردی مقدمات لگا دینے سے بلوچستان کے حالات ٹھیک ہوجائیں گے؟، شکیلہ دہوار

شکیلہ دہوار

کوئٹہ (یو این اے)بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی خواتین سیکرٹری اور سابقہ ممبر بلوچستان اسمبلی شکیلہ نوید دہوار نے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی خواتین ممبران کے ہمراہ اپنے ایک مذمتی بیان میں ریٹائرڈ پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کی سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتاری اور ان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ کیا ایک بوڑھی ریٹائرڈ عورت پر دہشت گردی کے مقدمات لگا دینے سے بلوچستان کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے؟ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے نہ صرف عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ شہریوں اور پرامن اختلافِ رائے رکھنے والوں پر اس طرح کی سخت دفعات کا استعمال جمہوریت کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔ شکیلہ نوید دہوار کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں روز بروز بڑھتے ہوئے ناانصافی کے خطرات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے جا رہے ہیں، اور یہ بلوچستان کے لوگوں پر جاری ظلم و جبر کا تسلسل ہے جس کی مثال کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ملتی۔