کوئٹہ (یو این اے) صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے لاپتا افراد کے معاملے پر سردار اختر مینگل کی جانب سے پیش کی گئی فہرست کے حوالے سے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی میں تقریبا 15 ہزار افراد کے لاپتا ہونے کی ایک فہرست جمع کروائی تھی، تاہم حکومت کی جانب سے اس فہرست کی تحقیقات اور دستیاب ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران بڑی تعداد میں ایسے نام سامنے آئے جن کے بارے میں مکمل معلومات یا قابلِ تصدیق ڈیٹا موجود نہیں تھا۔ میر ضیا اللہ لانگو کے مطابق حکومت نے مذکورہ فہرست کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو تقریبا 14 ہزار افراد کے حوالے سے ایسا کوئی مکمل ریکارڈ سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر ان دعوں کی باقاعدہ تصدیق کی جا سکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے بات چیت می کیا انہوں نے کہا کہ فہرست میں متعدد افراد کے صرف نام درج کیے گئے تھے، جبکہ ان کے شناختی کارڈ نمبر، رہائشی پتے، خاندان کے کوائف یا دیگر بنیادی معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ کسی بھی شخص کو لاپتا قرار دینے کے لیے محض نام کا اندراج کافی نہیں ہوتا بلکہ اس شخص کی شناخت، رہائش، خاندان اور دیگر ضروری کوائف موجود ہونا ضروری ہیں تاکہ متعلقہ ادارے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کرسکیں اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ متعلقہ شخص حقیقتا لاپتا ہے یا کسی اور وجہ سے اپنے گھر اور علاقے سے باہر ہے انہوں نے کہا کہ "سردار اختر مینگل 15 ہزار بندے لاپتا افراد کی ایک لسٹ قومی اسمبلی میں جمع کروا چکے ہیں، لیکن جب ہم لوگوں نے اس کی تحقیقات کیں تو تقریبا 14 ہزار لوگوں کا کوئی ڈیٹا ہی نہیں تھا۔ صرف نام دیے گئے تھے، نہ شناختی کارڈ تھا اور نہ گھر کا ایڈریس ہیں میر ضیا اللہ لانگو نے الزام عائد کیا کہ اس طرح کی فہرستیں اور غیرمصدقہ اعداد و شمار عوام میں بے چینی پیدا کرنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاپتا افراد ایک انتہائی حساس اور اہم معاملہ ہے جس پر سیاست کرنے کے بجائے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر بات ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے لاپتا ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے تو اس کے بارے میں مکمل معلومات متعلقہ اداروں کو فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کیس کو سنجیدگی سے دیکھ سکیں۔ ان کے بقول صرف ہزاروں افراد کے ناموں پر مشتمل ایسی فہرست پیش کرنا، جس میں بنیادی شناختی معلومات موجود نہ ہوں، معاملے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیتا ہےصوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت بلوچستان لاپتا افراد کے معاملے کو نظر انداز نہیں کر رہی بلکہ ایسے تمام معاملات کو قانون اور دستیاب ریکارڈ کے مطابق دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی خاندان کا فرد اگر واقعی لاپتا ہے تو اس کے اہل خانہ کی پریشانی اور تکلیف اپنی جگہ ایک حقیقت ہے اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ایسے کیسز کی تحقیقات کی جائیں اور حقائق سامنے لائے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں امن و امان، دہشت گردی، مسلح کارروائیوں، سرحدی صورتحال اور دیگر چیلنجز کے باعث بعض افراد کے حوالے سے مختلف نوعیت کے معاملات سامنے آتے رہتے ہیں، اس لیے ہر کیس کو الگ الگ بنیاد پر دیکھنا ضروری ہے۔میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ غیرمصدقہ اعداد و شمار کے ذریعے بلوچستان کے عوام میں احساس محرومی اور بے اعتمادی پیدا کرنے کی کوششیں کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو جذباتی نعروں کے بجائے درست معلومات فراہم کرنا سیاسی رہنمائہں اور ذمہ دار حلقوں کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ اگر کسی سیاسی رہنما کے پاس لاپتا افراد کے حوالے سے مستند معلومات، شناختی کارڈ نمبرز، رہائشی پتے، ایف آئی آرز، مقدمات یا دیگر قابلِ تصدیق دستاویزات موجود ہیں تو وہ انہیں متعلقہ فورمز پر پیش کریں تاکہ حکومت ان معاملات کی تحقیقات کرسکے صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ لاپتا افراد کے معاملے کو محض سیاسی بیانات، اعداد و شمار اور فہرستوں تک محدود کرنے کے بجائے ہر فرد کے کیس کو شواہد کی بنیاد پر جانچنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی معاملے میں حقیقت تک پہنچنے کے لیے درست شناخت اور مکمل معلومات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں انہوں نے کہا کہ یہ ایسی چیزیں ہیں جو خیالی طور پر اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے اور ملک اور صوبے کی عوام کو پاگل بنانے کے لیے ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام باشعور ہیں اور انہیں حقائق سے آگاہ کرنا ضروری ہے صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل الزام تراشی، غیرمصدقہ دعووں اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں نہیں بلکہ سنجیدہ مذاکرات، شفاف تحقیقات، قانون کی بالادستی اور عوام کو درست معلومات کی فراہمی میں ہے۔ ان کے مطابق حکومت ایسے تمام معاملات پر حقائق سامنے لانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے انہوں نے کہا کہ اگر کسی خاندان کو اپنے کسی فرد کے لاپتا ہونے سے متعلق شکایت ہے تو اسے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت متعلقہ اداروں اور فورمز سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ شکایت کا اندراج ہو، تحقیقات کی جاسکیں اور معاملے کے اصل حقائق سامنے لائے جاسکیں۔ میر ضیا اللہ لانگو نے زور دیا کہ بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے لیے ہر شہری کی جان، مال اور بنیادی حقوق کا تحفظ اہم ہے اور کسی بھی شہری کے بارے میں درست معلومات کے بغیر حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہیں۔
اختر مینگل کی لاپتا افراد فہرست میں ہزاروں ناموں کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں، ضیا لانگو
