کوئٹہ (ویب ڈیسک) نیشنل پارٹی کے صدر اور رکن بلوچستان اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہم نے وزیراعظم شہباز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن، خاقان عباسی، مشاہد حسین سید، افراسیاب خٹک ، صحافیوں سے ملاقات کی۔ ہم نے بلوچستان کی صورتحال ان کے سامنے پیش کیے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے ہماری بات چیت ہوئی تو ہم نے کہا کہ بلوچستان پر جو اس وقت آپ کو بریفنگ دی جارہی ہے وہ اس طرح نہیں ہے، بلوچستان کے 70 فیصد علاقے حکومتی رٹ میں نہیں ہیں، راستے ہمارے بند ہیں، ایم پی اے ہمارے نہیں جاسکتے، نہ ریاست مذاکرات چاہتی ہے، نہ جنگجو مذاکرات چاہتے ہیں لیکن مر تو ہم لوگ رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ہمیں کہا کہ آپ لوگوں کی تجاویز کیا ہیں، تو ہم نے انہیں کہا کہ ہم آپ کو لکھ کر دے دیں گے۔ ہم نے جو پوائنٹ تیار کیے ان میں پہلا اور بنیادی یہ تھا کہ بلوچستان کے عوام کے حق حاکمیت کو تسلیم کیا جائے، انہیں ووٹ کا حق دیں، ان کی نمائندہ حکومت کو آپ تسلیم کریں۔ طاقت کا استعمال حالات کو مزید بگاڑ دے گا۔ دوسرا یہ کہ ہمارے ساحل و وسائل پر ہمیں اختیار دیا جائے، لاپتا افراد کا مسئلہ حل کیا جائے، ڈاکٹر ماہ رنگ و دیگر کو رہا کرو نہیں تو انہیں فری ٹرائل کا حق دیا جائے، ہمارے سمندروں اور سرحدوں کو کھول دو۔ ہمارے بچوں کا یہ حال ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی میں انرولمنٹ کی تعداد 16 ہزار تھی جو 5 ہزار رہ گئی ہے۔ ہماری ملاقات میں بلوچستان کا وزیراعلیٰ بننے سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی، ویسے بھی اس بات کا فیصلہ پارٹی کرے گی، میں ذاتی طور پر اس بات کے مخالف ہوں، میں سمجھتا ہوں اور ہماری پارٹی کو بھی سمجھنا ہوگا کہ ان حالات میں بلوچستان کی وزارت نہیں سنبھالنی چاہیے۔
بلوچستان کے 70 فیصد علاقے حکومتی رٹ میں نہیں، نہ ریاست مذاکرات چاہتی ہے نہ جنگجو، ڈاکٹر مالک
