بلوچستان میں طاقت کا استعمال، لاپتا افراد اور سرحدی تجارت کی بندش دہشتگردی کی اصل وجہ ہیں، آل پارٹیز کانفرنس

بلوچستان میں طاقت کا استعمال، لاپتا افراد اور سرحدی تجارت کی بندش دہشتگردی کی اصل وجہ ہیں، آل پارٹیز کانفرنس

اشاعتی ڈیسک: روزنامہ بلوچستان نیوز ویب ڈیسک

اسلام آباد/ کوئٹہ (ویب ڈیسک) تحریک انصاف کے صوبائی صدر داﺅد شاہ کاکڑ کی سربراہی میں بعنون سیو (save) بلوچستان آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں نے بلوچستان میں طاقت کا استعمال ترک کرکے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے، لاپتا افراد کی بازیابی، شفاف انتخابات، مقامی افراد میں وسائل کی تقسیم کے مطالبات پیش کردیے۔ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے زیر اہتمام بلوچستان کے حالات پر آل پارٹیز کانفرنس خیبر پختونخوا ہاﺅس اسلام آباد میں ہوئی۔ کانفرنس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سمیت بلوچستان کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں صدر پی ٹی آئی بلوچستان داﺅد شاہ کاکڑ، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سردار اختر جان مینگل، ایم این اے پھلین بلوچ، اخونزادہ حسین، پی ٹی آئی صوبائی جنرل سیکرٹری جہانگیر رند، محسن داوڑ، اصغر خان اچکزئی، کامران مرتضی، مولانا ترابی، ساجد ترین، ملک امان اللہ کاکڑ، مصطفی نواز کھوکھر، سردار زین خلجی، آئی ایل ایف بلوچستان کے صدر و جنرل سیکرٹری ایڈوکیٹ سلام آغا، ایڈووکیٹ عبدالحکیم زرین، ملک نصیب اللہ بیٹنی اور دیگر نے شرکت کی۔ کانفرنس سے داﺅد شاہ کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں یتیموں، بیواﺅں اور قبرستانوں میں اضافہ ہورہا ہے، غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان ڈاکو بن رہے ہیں، وہاں جموں کشمیر اور غزہ سے بھی بدتر حالات ہیں، بلوچستان میں دہشت گردی اور لاقانونیت انتہا پر ہے، وسائل ہیں لیکن مسائل بے تحاشا ہیں، لاپتا افراد کو بازیاب کرایا جائے، اس وقت حقیقی قیادت نہیں ہے جعلی قیادت ہے، ملک میں کوئی جمہوریت نہیں، سرمایہ دارانہ نظام بغیر جمہوریت کے وسائل پر قبضہ چاہتا ہے، ہم بھی اسی نظام کے ملازم ہیں، اب اسی مقصد کے لیے دہشت گردی اور اسمگلنگ کا نام دیا جاتا ہے، چمن بارڈر 2 سال سے بند ہے اور کہا گیا کہ دہشت گردی اور اسمگلنگ آرہی ہے، اب چمن بارڈر بند ہے دہشت گردی پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے، ہم افغانستان کو 20 فیصد نقصان پہنچاتے ہیں تو ہمیں 80 فیصد نقصان ہوتا ہے، افغانستان کے بارڈرز کی بندش سے پاکستانی تاجروں کو نقصان پہنچ رہا ہے، طویل جنگوں کے قصے کہانیاں اچھی نہیں لگتے، بلوچستان کے موضوع پر پی ٹی آئی نے کانفرنس بلا کر ہمت کی ہے، اس وقت بڑی ملکی سیاسی قیادت بلوچستان سے ہے، مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی، ایمل ولی خان بلوچستان سے ہیں، ہر مشکل وقت میں بلوچ سیاسی قیادت نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا، پی ٹی آئی حکومت گرانے میں یہی بلوچستان کی قیادت پیش پیش تھی، اس وقت پہلا مطالبہ یہی تھا کہ انتخابی عمل سے ریاستی اداروں کا کردار ختم ہو، جب یہ بڑی جماعتیں اقتدار میں آجاتی ہیں تو وعدوں کو نظر انداز کرتے ہیں بلوچستان کی سیٹوں کی تعداد 16 ہے، 16 سیٹیں کیا مدد کرسکتی ہیں؟ اس نظام میں ہماری ساکھ بہت کمزور ہے، سینیٹ سی سی آئی، صدارتی انتخاب میں سب برابر ہیں مگر رویے الگ ہیں، این ایف سی، سی سی آئی میں نہیں جاتیں پارلیمان کا احترام نہیں کرتے، آئین پر عمل داری نہیں کرتے، بلوچستان کا مسئلہ آج کا نہیں دیرینہ ہے، اسلام آباد بلوچستان کو سنجیدہ نہیں لیتے اسے مسئلہ سمجھتے ہی نہیں، اسلام آباد میں بیٹھے لوگ اسے سیکورٹی مسئلہ سمجھتے ہیں، بلوچستان ایک سنجیدہ سیاسی مسئلہ ہے، بلوچستان کا حل سیکورٹی نہیں بلکہ اور ہے، بیماری جسم کے کسی بھی حصے میں دیگر حصے ٹھیک نہیں رہ سکتے، بلوچستان کے مسائل پر سنجیدہ ہونا پڑے گا جب ملک ٹوٹا تو ہم چھوٹی قومیتوں کے لوگ شیخ مجیب سے پاکستان جوڑنے کی بات کر رہے تھے، ایک لوکل کونسلر سے لے کر قومی اسمبلی تک وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں، بلوچستان میں دو دھرنے چل رہے ہیں لاشیں سامنے پڑی ہیں، عجیب و غریب قوت ہے جسے کبھی فتنہ الخوارج کبھی فتنہ الہند کا نام دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل لوٹنے کے لیے دہشت گردی پیدا کی جاتی ہے، آئین پاکستان کا حلیہ محکوم عوام کے وسائل تک پہنچنے کے لیے بگاڑا جا رہا ہے، آج بلوچستان کے موجودہ مسائل پر کہیں بات نہیں کرسکتے، بلوچستان کی واحد اسمبلی ہے جہاں سب کے سب ایک پیج پر ہیں، بجٹ سے لے کر قانون سازی تک بلوچستان اسمبلی سچ ایک پیچ پر ہے، ڈپٹی کمشنر کے لئے اضلاع میں ایک ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں، بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی اور جرائم پر بات نہیں ہوسکتی، دس جولائی کا نوٹی فکیشن جاری ہوا کہ افغان کو یہاں سے نکالنا ہے، ایک شریف افغان یہاں کاروبار یا روزگار نہیں کر سکتا، پورا ہلمند اس وقت بلوچستان میں بیٹھا ہے اور افیم کی فصل والوں کو پشت پناہی دی گئی ہے نگران حکومتیں آتی ہیں تو وہ بھی بلوچستان کی معدنیات کو فروخت کر جاتی ہیں، افغانستان کے ساتھ بارڈر بند ہے کاروبار کے راستے بند ہیں آج کل پورے ریجن میں ایک ہی پالیسی اپنائی جا رہی ہے کہ لوگ تشدد پر اتر آئیں، ہماری اسٹیبلشمنٹ پراکسی کی جنگ لڑنے کو تیار ہے، افغانستان میں جن طالبان کی حکومت ہے وہ لوگ پاکستان میں ابھی تک پروٹوکول لیتے ہیں، پاکستان کی جتنی بھی کارروائیاں ہوئی ہیں ان میں طالبان کا کوئی ایک بھی اہم بندہ نہیں مارا گیا، پاکستان کے حملوں سے افغان حکومت مضبوط ہوئی ہے، انہیں عوامی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ محسن داوڑ نے کہا کہ پورے ڈی آئی خان میں دہشت گردوں کا کنٹرول ہے لیکن وہ پنجاب میں داخل نہیں ہوتے، خیبر پختونخوا کی حکومت بھی وہاں کی بد امنی میں برابر کی شریک ہے، خیبر پختونخوا میں حالات بلوچستان سے بھی زیادہ خراب ہیں، وہاں جو امن جرگہ ہوا اس کے اوپر عملدرآمد آج تک نہیں ہوسکا، جتنے بھی بلوچستان کے سیاسی قیدی ہیں ان کو رہا کیا جائے۔ مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ سیاست فیل ہوتی جارہی ہے آئین کو تباہ کردیا گیا ہے، بلوچستان میں ریاستی رٹ ختم ہورہی ہے، بلوچستان کے حالات کو اس نہج تک پہنچانے میں سب کا کردار ہے، منشیات کی خرید و فرخت، کانفلکٹ انکانومی عروج پر ہے، اس صورتحال پر اب بھی ہم اکھٹے بیٹھ کر حل نہیں نکالتے تو واپسی ناممکن ہوگی، اس صدی میں سب سے خطرناک چیز یہ ہے کہ ریاستیں اندر سے پھٹ گئیں، اندر سے پھٹنے کی تپش بہت زیادہ ہوتی ہے، سیریا، لیبیا اور یمن کو دیکھیں ہم کیوں سبق نہیں سیکھ رہے؟ یہ سب ممالک اندر سے پھٹے اور وہاں تباہی ہی تباہی ہے ہم بھی اس نہج پر پہنچ گئے ہیں خدارا ہوش کے ناخن لیں۔انہوں نے کہا کہ اقتدار کے لمحوں کے لیے لوگوں نے ضمیر بیچے، خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے، فیصلہ ساز اسے سن نہیں رہے، بلوچستان کے مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں، ہم مسائل کے حل کی جانب سفر شروع کرنا چاہتے ہیں اور اس کی ابتدا صاف شفاف انتخابات سے ہوگی، ہمارا بلوچستان سے متعلق انتخابی اسٹرکچر بنایا ہی ایسا گیا ہے کہ کوئی بلوچستان کی 17 نشستوں پر توجہ ہی نہیں کرتا اس کے بجائے کراچی، لاہور اور فیصل آباد پر زور لگایا جاتا ہے، فارمولا بہتر کرنا ہوگا مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ہم نے سیاست نفرت اور دشمنی میں بدل دی ہے آج ہمیں چند منٹ کی مسافت پر واقع بلوچستان ہاﺅس میں بیٹھنا چاہیے تھا، جو رویہ بلوچستان کے ساتھ روا رکھا گیا ہے مجھے یہ خدشہ ہے کہ بلوچستان کا معاملہ ختم ہی نہ ہو جائے، بلوچستان کا نوجوان مایوس ہے، ہم اس کیفیت میں ہیں کہ اب لوگ مایوس ہوچکے ہیں، لوگ متنفر ہوتے جارہے ہیں، ایم فل، پی ایچ ڈی اسکالرز اور ڈاکٹرز جن کا تعلق عزت دار گھرانوں سے ہے وہ دہشت گرد بن رہے ہیں ریاست کو سوچنا ہوگا یہ ناکامی ریاست کی ہے، وجہ تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مسئلے کے حل کا آغاز ہی گولی سے کرتی ہے اور جبر مسئلے کا حل نہیں ہمیں بات کرنا ہوگی، مذاکرات کرنا ہوں گے ادھر کے لوگوں کی بات سننا ہوگی، وہاں کے مقامی لوگوں سے بات کریں، سیاسی شخصیات کو اعتماد میں لیں وہاں کے لوگ محب وطن اور پاکستان کے خیر خواہ ہیں ہم نے اس بات کا خیال نہیں کیا، آج بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کو تحفظ چاہیے، زیارت کا واقعہ عام واقعہ نہیں ہے ہم بے حسی کا شکار ہیں کوئی بات بھی نہیں کر رہا میڈیا آواز نہیں بلند کر رہا بنیادی حقائق سلب کرلیے گئے ہیں۔ اسد قیصر نے کہا کہ جو کچھ ہمارے بارڈر پر ہورہا ہے اس کا افسوس ہے، بارڈر ٹریڈ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا مشترکہ مسئلہ ہے، بے روزگاری بڑھ گئی اور دہشت گردی بڑھ گئی نوجوان پریشان ہیں، دشمنی اپنی جگہ لیکن کاروبار تو کاروبار ہے، ہمیں تمام ہمسایوں کے ساتھ کاروبار کرنا چاہیے، تمام سیاسی جماعتیں امن و امان کے معاملے پر ایکا کرلیں اگر اتفاق رائے نہ پیدا ہوا تو بلوچستان میں امن و امان مشکل ہوگا، ہم ایک اہم ایونٹ کریں گے جرگہ بلائیں گے اور وسیع مشاورت کریں گے بلوچستان میں پولیس کو طاقت ور بنایا جائے اور اختیارات دیے جائیں۔