کوئٹہ، عدالت نے پاکستانی نژاد 14 سالہ امریکی لڑکی کے قتل کے جرم میں والد اور ماموں کو عمر قید کی سزا سنا دی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی ایک مقامی عدالت نے 14 سالہ پاکستانی نژاد امریکی لڑکی حرا انوار کے قتل کے جرم میں ان کے والد اور ماموں کو عمر قید کی سزا سنادی ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ (10) شاہد جاوید نے ہفتے کو اس ہائی پروفائل مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے مقتولہ کے والد انوار الحق راجپوت اور ماموں محمد طیب بھٹی کو عمر قید کے ساتھ ساتھ دو، دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے۔ اس مقدمے کی تفتیش سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ نے کی تھی جس کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ سب انسپکٹر بسم اللہ خان تھے جبکہ استغاثہ کی جانب سے مقدمے کی پیروی اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر قیصر خان نے کی۔ حرا انوار قتل کیس کیا تھا؟ چودہ سالہ حرا انوار کو جنوری 2025 میں کوئٹہ کے علاقے بلوچی اسٹریٹ میں گھر کے باہر گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد مقتولہ کے والد انوار الحق راجپوت نے خود گوالمنڈی تھانے میں نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ انہوں نے پولیس کو دیے گئے اپنے ابتدائی بیان میں موقف اختیار کیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ گھر سے نکلے تھے تاہم وہ اپنے بھائی کا موبائل فون واپس دینے کے لیے دوبارہ گھر کے اندر چلے گئے اور اسی دوران باہر فائرنگ ہوگئی۔ ان کے مطابق جب وہ باہر آئے تو حرا شدید زخمی حالت میں پڑی تھیں، جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔ تاہم جب پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے، عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے اور مختلف پہلوﺅں سے تحقیقات کا آغاز کیا تو پولیس کا شک مقتولہ کے والد اور خاندان کے دیگر افراد پر گیا۔ بعد ازاں یہ مقدمہ سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کیا گیا، جس نے تفتیش کے بعد مقتولہ کے والد اور ماموں کو گرفتار کرلیا۔ پولیس حکام کے مطابق دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ والد کو اپنی بیٹی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں، رہن سہن اور طرزِ زندگی پر سخت اعتراض تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم انوار الحق قریباً تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم تھے جہاں وہ ٹیکسی چلاتے تھے اور حرا انوار کی پیدائش بھی وہیں امریکہ میں ہوئی تھی۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ جنوری 2025 میں حرا اپنے والد کے ہمراہ امریکہ سے پاکستان کے شہر لاہور آئیں اور چند روز بعد کوئٹہ پہنچیں۔ انہیں ان کے والد اور ماموں نے ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت امریکہ سے پاکستان لا کر قتل کردیا۔ پاکستان کے علاوہ اس مقدمے کو امریکہ اور عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل ہوئی تھی۔ تحقیقات کے دوران امریکی سفارتخانے کی ایک ٹیم نے کوئٹہ کا خصوصی دورہ بھی کیا تھا اور قونصلر رسائی کے تحت مقتولہ کے والد سے ملاقات کی تھی کیونکہ وہ خود بھی امریکی شہری ہیں۔ امریکہ میں مقیم لڑکی کی والدہ نے پولیس کی درخواستوں کے باوجود اس کیس میں اپنا بیان قلمبند کرایا اور نہ ہی وہ پاکستان آئیں۔