روس میں پابندی کی شکار فلم کا آسکر ایوارڈ امریکا میں غائب

روس میں پابندی کی شکار فلم ‘مسٹر نوبڈی اگینسٹ پوٹن’ کو ملنے والا آسکر ایوارڈ امریکا کے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر خطرناک قرار دیا گیا، جس کے بعد حیرت انگیز طور پر غائب ہوگیا تاہم ہنگامہ کھڑا ہونے کے بعد ایئرلائن نے برآمد کر لیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نیویارک ایئرپورٹ پر روس سے تعلق رکھنے والے آسکر ایوارڈ کے فاتح اداکار اور ہدایت کار پیول تالانکن کو ایوارڈ کی تلاشی پر مجبور کیا گیا، جس کے بعد ان کا آسکر غائب ہوگیا۔پیول تالانکن نے بتایا کہ وہ بدھ کو امریکا سے جرمنی جانے والی پرواز میں آسکر ایوارڈ اپنےکیری آن بیگ میں رکھا تھا لیکن جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سیکیورٹی نے انہیں روک لیا اور انہیں بتایا کہ یہ ایوارڈ بطور ہتھیار استعمال ہو سکتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ جرمنی پہنچے تو ان کی دستاویزی فلم مسٹر نوبڈی اگینسٹ پوٹن کے لیے ملنے والا آسکر ایوارڈ غائب تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایئرلائن نے تکلیف پہنچنے پر مالک سے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ آسکر کا مجسمہ اب مل گیا ہے اور فرینکفرٹ میں ہماری تحویل میں محفوظ ہے اور بتایا کہ ایئرلائن اپنے مہمان کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے تاکہ مجسمہ جلد از جلد واپس کیا جا سکے اور ہمارے مہمانوں کے سامان کی محفوظ دیکھ بھال ہمارے لیے انتہائی اہم ہے اور مذکورہ واقعے کے حوالے سے محکمہ جاتی چھان بین کی جا رہی ہے۔

دستاویزی فلم کے شریک ہدایتکار ڈیوڈ بورینسٹین نے بتایا کہ وہ ہنگامہ خیزی کے بعد آسکر ایوارڈ کا مجسمہ مل جانے پر مطمئن ہیں اور کہا کہ انہوں نے بس ایک کمزور سا ڈبہ ڈھونڈا اور اسے کہا کہ اس میں رکھ دو حالانکہ سب لوگ کہہ رہے تھے یہ آسکر ہے، آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاملہ خاصا بگڑ گیا تھا کیونکہ فلم کی ایگزیکٹو پروڈیوسر روبین ہیسمن فون پر تھیں اور ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن پر چلا رہی تھیں کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے