کوئٹہ کے ترقیاتی فنڈ ز میں کروڑ وں کی مبینہ بے ضابطگیاں ،بلوچستان ہائی کورٹ گوگل کوآرڈینیٹس کیساتھ ثبوت طلب کرلیے

کوئٹہ (ویب ڈیسک)بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی و دیگر کی جانب سے دائر آئینی درخواست (نمبر 1212/2025) پر سماعت کی، جس میں کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ترقیاتی منصوبوں میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور کام کی عدم تکمیل کے حوالے سے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل حبیب اللہ ناصر ایڈووکیٹ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شبیر حق بلوچ اور جواب دہندگان پیش ہوئے۔دبندہ نمبر 5 کے وکیل حمید اللہ کاکڑ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-2025 کے لیے میٹروپولیٹن کارپوریشن کو 1 ارب 44 کروڑ روپے (1,440 ملین) کے ترقیاتی فنڈز جاری کیے گئے تھے، جن میں سے سرکاری رپورٹ کے مطابق 1 ارب 39 کروڑ 21 لاکھ روپے (1,392.11 ملین) خرچ کیے جا چکے ہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے اس پیش رفت رپورٹ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ بھروسا قرار دیا اور مقف اختیار کیا کہ زمین پر ایسا کوئی ترقیاتی کام نظر نہیں آ رہا جس پر اتنی خطیر رقم خرچ کی گئی ہو۔کہ گئی ہو، لہذا عدالت باقی ماندہ رقم پر حکمِ امتناع جاری کرے۔ عدالتِ عالیہ نے فریقین کے بیانات میں تضاد اور کام کی حقیقت جاننے کے لیے ایک تاریخی حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ دونوں فریقین منصوبوں کی تکمیل یا عدم تکمیل کے حوالے سے "گوگل کوآرڈینیٹس” (Google Coordinates) کے ساتھ تصویری شواہد اور دستاویزی ثبوت (Pictorial Deviance) عدالت میں جمع کرائیں تاکہ کام کی جغرافیائی اور زمینی موجودگی کی تصدیق کی جا سکے۔ عدالت نے جواب دہندہ نمبر 5 کے وکیل کو مزیدبہتر جواب داخل کرنے کی مہلت دیتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو پبلک پراسیکیوٹر کمینٹس جمع کرانے کی ہدایت کی ہے، جبکہ بقایا 4 کروڑ 80 لاکھ روپے (48 ملین) کی رقم کے استعمال پر تاحکمِ ثانی "اسٹیٹس کو” (Status-quo) یعنی حکمِ امتناع برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اس حکم نامے کی نقول متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت اگلے ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔