اشاعتی ڈیسک: روزنامہ بلوچستان نیوز ویب ڈیسک
کوئٹہ (ویب ڈیسک) معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ انوارالحق کاکڑ کے کردار کو متنازع بنانے کی کوششیں حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتیں۔ کسی بھی شخص، جماعت یا گروہ کو محض سیاسی مفادات کی بنیاد پر دہشت گردی کی سنگین حقیقت سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جو شخص ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھاتا ہے، بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتا ہے اور معصوم انسانوں کا خون بہاتا ہے، وہ دہشت گردی کا مرتکب ہے اور اس کے عمل کی مذمت کسی ابہام کے بغیر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ایک خاتون رکن اسمبلی کی جانب سے دیا گیا بیانیہ گمراہ کن ہے محترمہ کو چاہیے کہ وہ سیاسی بیانات اور الزامات کے بجائے حقائق، شواہد اور زمینی حقیقت کو سامنے رکھیں۔ دہشت گردی جیسے سنگین معاملے کو سیاسی مفادات کی عینک سے دیکھنا نہ صرف حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے بلکہ دہشت گردی کے متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا صلح حدیبیہ کے ساتھ ساتھ سورت المنافقون کا مطالعہ بھی ضرور کرنا چاہیے۔ بابر یوسفزئی نے کہا کہ انوارالحق کاکڑ نے اپنے سیاسی اور عوامی کردار میں ہمیشہ دہشت گردی، شدت پسندی اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بے نقاب کرنے کی بات کی ہے۔ ان کے کردار کو محض سیاسی اختلاف یا غیر ثابت شدہ الزامات کی بنیاد پر مشکوک بنانا مناسب نہیں۔ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن اختلاف کی آڑ میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
